
امریکی حکام کھل کر کہتے ہیں کہ انہوں نے شام میں اپنی فوج تیل کیلئے اتاری ، لیکن امریکا نہ تو عراق میں باقی رہ سکتا ہے اور نہ ہی شام میں باقی رہے گا
افغانستان، شام اور عراق میں جارحیت،داعش کی سرپرستی،صدر کی بیہودہ گوئی اور کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی امریکا سے نفرت کی وجوہات ہیں
تہران (نیوز ڈیسک) ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ افغانستان، عراق اور شام میں امریکی اقدامات کی وجہ سے اس سے نفرت کی جاتی ہے، امریکا کو شام اور عراق میں رہنے نہیں دیا جائے گا اور اسے وہاں سے نکال دیا جائے گا، امریکی حکام کھل کر کہتے ہیں کہ انہوں نے شام میں اپنی فوج اس لئے اتاری ہے کہ وہاں تیل ہے، لیکن امریکا نہ تو عراق میں باقی رہ سکتا ہے اور نہ ہی شام میں باقی رہے گا ،طلبہ کے ایک اجتماع سے ورچوئل خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ امریکا کی طرف سے دنیا میں رائے عامہ کو بہتر بنانے پر خرچ کردہ رقم کے باوجود اس کی حکومت اور نظام دنیا کے بیشتر حصوں میں بدنام ہو گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں امریکی جھنڈے جلائے جا رہے ہیں امریکا سے نفرت کے ذمہ دار امریکی حکومت میں شامل متشدد لوگ ہی نہیں بلکہ امریکی حکومت کی کارکردگی ہے، افغانستان، شام اور عراق میں جارحیت کی وجہ سے بھی امریکا سے نفرت کی جاتی ہے ،داعش کی سرپرستی کی وجہ سے بھی امریکا کو نفرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، امریکا دہشت گردی کی ترویج اور ناانصافی کر رہا ہے اور خاص کر کورونا وائرس سے نمٹنے میں کوتاہی کی وجہ سے بھی امریکا کو عالمی نفرت کا سامنا ہے ،انہوں نے کہا کہ عوام کے علاوہ امریکا کا ساتھ دینے والی حکومتوں کے بعض سربراہان بھی جب اپنے دل کی بات کرتے ہیں تو اس سے امریکی حکومت اور حکام کیلئے ان کی نفرت اور بے اعتمادی کا پتہ چلتا ہے،انہوں نے امریکا سے نفرت کی ایک اور وجہ موجودہ حکمرانوں کے رویے، کم مایہ، غیر منطقی اور بیہودہ باتیں کرنے والے صدر اور وزیر خارجہ کے اقدامات اور پالیسیوں کو قرار دیا،انہوں نے منہ زور طاقتوں کے مقابل ایران کی ثابت قدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس نکتہ پر ہمیشہ توجہ رہنی چاہئے کہ دشمن اب بھی مایوس نہیں ہوا اور وہ ایرانی قوم کی تحقیر اور قومی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی مسلسل کوشش میں مصروف ہے، تاہم دشمن کی ان تمام تر کوششوں کے باوجود خداوند عالم نے دشمن کے مقدر میں ذلت و رسوائی ہی لکھی ہے۔


































