
واشنگٹن : امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے اجلاس میں امریکی جنرلز نے کہا ہے کہ انہوں نے ذاتی حیثیت میں ڈھائی ہزار امریکی فوجی افغانستان میں رکھنے کی تجویز دی تھی،سینیٹ کمیٹی کے سامنے دلائل دیتے ہوئے سیکریٹری دفاع لوئیڈ آسٹن، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملی اور سینٹرل کمانڈ کے چیف جنرل فرانک میکینزی نے افغانستان سے امریکا کے نکلنے اور انخلا کے طریقہ کار کا دفاع کیا، جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان سے انخلا نے امریکا کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے، وزیر دفاع لوئیڈ آسٹن کا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکی حکومت نے مکمل طور پر فعال اداروں کے ساتھ قوم کو فریب دینے کی کوششوں میں بہت وقت لگایا، یہ امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ایئر لفٹ تھا جسے 17 دنوں میں کیا گیا، کیا یہ بہترین تھا؟ یقینا نہیں، ہم نے بہت جلد بازی میں لوگوں کو کابل سے نکالا، ہم نے ایک ریاست بنانے میں مدد کی، لیکن ہم قوم کو فریب نہیں دے سکتے، حقیقت یہ ہے کہ افغان فوج اور ہمارے تربیت یافتہ شراکت دار ایک طرف ہوگئے، بہت سی جگہ تو ایک گولی تک نہیں چلائی گئی، جس نے ہمیں حیرت میں مبتلا کردیا، صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ سینئر ایڈوائزرز نے ایسی کوئی تجویز نہیں دی، ری پبلکن سینیٹر جوش ہالے نے امریکی صدر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن نے امریکی عوام اور فوجی اندازوں سے متعلق جھو ٹ بولا، ترجمان وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ صدر بائیڈن کے سامنے کئی آپشن رکھے گئے تھے، بالآخر فیصلہ کمانڈر انچیف کا ہوتا ہے۔


































