
گلگت : گلگت بلتستان میں متنازعہ لینڈ ریفارمز ایکٹ 2025 کی منظوری سے دریا، جھیل، گلیشئیرز اور آبشاریں حکومت نے اپنی ملکیت میں لے لی ہیں جس پر اپوزیشن شدید احتجاج کررہی ہے۔ اپوزیشن ارکان کا موقف ہے کہ یہ قانون دراصل سرکار کا عوامی اراضی کو ہڑپ کرنے کا منصوبہ ہے جس کے تحت عوامی ملکیت سرکار کے پاس چلی جائی گی مگر حکومت کا کہنا ہے کہ لینڈ ریفارمز میں عوام کو زمینوں کا مالک بنایا جا رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر کاظم میثم کا مؤقف ہے کہ لینڈ ریفارمز بل کو پاس کرنے میں جلد بازی سے کام لیا گیا جس کے نتائج مستقبل میں خوف ناک ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مجوزہ بل میں ناقابلِ تقسیم اراضی کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ ناقابلِ تقسیم اراضی میں دریا، جھیل، گلیشئیرز اور آبشاریں شامل کی گئی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کے مطابق یہ اس علاقے کی روایات کے مطابق عوام کی ملکیت ہوتے ہیں جس پر سرکار کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بل میں شامل ان مبہم نکات کی وضاحت ضروری تھی۔ بل میں مختص شدہ اراضی کا نکتہ شامل کیا گیا ہےجس کا مقصد عوامی اراضی پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم ہرگز عوام کی ملکیتی زمین کو سرکار کے حوالے نہیں کریں گے۔ حکومت کو ٹھنڈے دماغ سے سوچ سمجھ کر بل پیش کرنا چاہیے تھا۔ لینڈ ریفارمز کرنے میں کوئی قباحت نہیں مگر عوام کو اس سے فائدہ ہونا چاہیے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے تین ترامیم منظور کی ہیں تاہم اس ایکٹ میں اب بھی نقائص موجود ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ حکومت عوامی ردِعمل کا انتظار کرے’.


































