
واشنگٹن : امریکا نے کابل ڈرون حملے میں دس عام شہریوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا، امریکی کمانڈر جنرل کینتھ مکینزی نے ڈھٹائی سے تسلیم کیا کہ 29اگست کو ڈرون حملے میں نشانہ بنائے گئی گاڑی میں بارود نہیں پانی کی بوتلیں تھیں، حملہ غلطی تھی جس میں دس شہری مارے گئے، جس پر معذرت خواہ ہیں، سنگین غلطی سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں گے، اعتراف جرم کے باوجود مجرموں کو سزا اور لواحقین کو معاوضہ دینے کی کوئی بات نہیں کی، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حملے کی شفاف اورغیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے لواحقین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے ، انسانی حقوق کے ادارے نے کہا کہ امریکا غیر قانونی ڈرون حملے بند کرے، ایسے حملوں کی تحقیقات کرے اور لواحقین کو معاوضہ ادا کرے۔


































