
نیویارک : اقوام متحدہ نے چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ میں کہا ہے کہ تشدد کے الزامات مصدقہ ہیں۔ اقوام متحدہ نے ایک انتہائی چونکا دینے والی رپورٹ جاری کی ہے جس میں سنکیانگ صوبے میں انسانیت کے خلاف ممکنہ جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ میں ایغور اور دیگر مسلم اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں تاہم اس میں نسل کشی کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو اب سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورت حال پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ نے فیصلہ کیا ہے چین کے خود مختار علاقے سنکیانگ کے اندر کی صورت حال کا مکمل جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔یہ رپورٹ تقریباً ایک سال سے تیار ہو رہی تھی اور چین نے اس کی ریلیز کی شدید مخالفت کی تھی۔ مشیل بیچلیٹ نے مزید کہا کہ کچھ ریاستوں کی طرف سے انسانی حقوق کے ان سنگین مسائل کو سیاسی بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ چین پر برسوں سے الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس نے خطے میں 10 لاکھ سے زائد ایغور اور دیگر مسلمانوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے۔بیجنگ نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ وہ انتہا پسندی روکنے کے لیے بنائے گئے پیشہ ورانہ مراکز چلا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملی کے اطلاق کے تناظر میں ایغور کے خود مختار علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔


































