
نیویارک: اقوام متحدہ۔ برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے اسرائیل سے غزہ پر مکمل فوجی قبضے کا منصوبہ فوری روکنے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا کہنا ہے اسرائیلی منصوبہ عالمی عدالتِ انصاف کے اس فیصلے کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو دو ریاستوں کے متفقہ حل اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کے لیے جلد از جلد اپنے قبضے کو ختم کرنا چاہیے۔ برطانوی وزیراعظم سرکیئر اسٹارمر نے کہا کہ غزہ میں اپنی جارحیت کو مزید تیز کرنے کا اسرائیلی حکومت کا فیصلہ غلط ہے یہ اقدام اس تنازع کو ختم کرنے یا یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے میں مدد دینے کے لیے کچھ نہیں کرے گا۔ اس سے صرف مزید خونریزی ہوگی۔
جرمن چانسلر نے بھی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نےکہاکہ اسرائیل اس راستے پر نہ جائے جو غزہ میں انسانی تباہی کو مزید بڑھا دے گا۔ دو ریاستی حل ہی پائیدار امن کے لیے واحد راستہ ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے بھی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ترک وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کے نسل کشی جاری رکھنے اور قبضے کو وسعت دینے کے ہرقدم سے عالمی امن اور سلامتی کو شدید دھچکا لگا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ نے غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔


































