
نیویارک : ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ برطانیہ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان محض ایک کھوکھلا قدم ہے اگر اس کے ساتھ اسرائیل کی نسل کشی اور قبضے کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے جائیں۔
ایمنسٹی کے کرائسس ریسپانس منیجر کرسٹیان بینیڈک نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان بلاشبہ اہم ہے لیکن صرف الفاظ مظالم کو نہیں روک سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو فوری طور پر اسرائیل کو اسلحے کی برآمدات روکنی چاہئیں، جنگی جرائم میں ملوث عہدیداروں پر پابندیاں لگانی چاہئیں، غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے چاہئیں اور غزہ پر عائد ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔
ادھر برطانوی تنظیم کیج انٹرنیشنل نے بھی خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا تاخیر سے اور محض ظاہری اقدامات پر مبنی ہے۔ تنظیم کے عہدیدار انیس مصطفیٰ نے کہا کہ برطانیہ کی یہ پہل 77 سال تاخیر سے ہوئی ہے اور اس میں لندن کی جانب سے اسرائیل کے قیام میں کردار یا فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کے لیے کوئی جوابدہی شامل نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں برطانیہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حمایت کی ہے اور موجودہ حالات میں عوام مغربی رہنماؤں کی منافقت سے دھوکہ نہیں کھائیں گے۔


































