Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

برطانیہ، قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والا ملعون مجرم قرار

لندن میں ترک قونصل خانے کے باہر قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے ملعون کو مجرم قرار دے دیا گیا، اس فیصلے کو ناقدین نے منسوخ شدہ توہین مذہب کے قانون کی بحالی قرار دیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں اداروں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کی رپورٹس کے مطابق لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ عدالت نے فروری میں لندن میں ترک قونصل خانے کے باہر قرآن پاک کے نسخے کی بے حرمتی کے الزام میں ملزم پر 240 پاؤنڈ (325 ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا۔
ملزم کے وکیل نے دلیل دی تھی کہ یہ مقدمہ توہین مذہب کے اس قانون کو واپس لانے کی کوشش کے مترادف ہے جو انگلینڈ میں 2008 میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ملزم نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ ترک حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور جب ہاتھ میں پکڑی کتاب کو لہرا رہے تھے، تو اس دوران ایک شخص نے چاقو سے ان پر حملہ کیا اور انہیں لاتیں ماریں۔ جج جان میک گاروا نے کہا کہ اگرچہ کسی مذہبی کتاب کو جلانا کچھ لوگوں کے لیے جارحانہ ہے لیکن ضروری نہیں کہ یہ بدنظمی میں آتا ہو۔
جج نے کہا کہ ان کے اس عمل کو بدنظمی، ان کے عمل کے وقت اور مقام کے علاوہ ان کی بدزبانی نے بنایا جب کہ انہیں ’گالی‘ دینے اور اپنے عمل کو اسلام سے جوڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جج نے کہا کہ جہاں آپ نے قرآن پاک کے نسخے کو نذر آتش کیا، آپ کے اقدامات انتہائی اشتعال انگیز تھے اور آپ نے بدزمانی بھی کی جو جزوی طور پر مذہب کے پیروکاروں سے نفرت کی وجہ سے تھی۔ ریاستی پراسیکیوٹرز نے اصرار کیا کہ ’عوام میں ان کے بدنظمی پر مبنی رویے‘ کے لیے پراسیکیوٹ کیا جا رہا تھا۔

مزید پڑھیے

Most Popular