
راولپنڈی: 84 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بے لگام غیر اخلاقی آزادی اظہارِ رائے کی آڑ میں زہر اُگلنے، جھوٹ اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے کے خاتمے کے لئے سخت قوانین وضوابط بنا کران پر عمل درآمد کرائے، جعلی خبریں پھیلانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا وقت کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت دو روزہ 84 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی، کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکا کو بیرونی اور اندرونی خطرات کے تناظر میں موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ شرکا نے بلوچستان میں دہشت گردوں بالخصوص بی ایل اے مجید بریگیڈ کے خلاف آپریشن پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کی ایماء پر کام کرنے والے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو بے اثر کرنے کا عزم کیا۔ شرکا نے پاک فوج کی دارالحکومت میں پاک فوج کی قانونی تعیناتی کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کیا۔ شرکا کانفرنس کا کہنا تھا کہ یہ مربوط اور پہلے سے تیار کردہ پروپیگنڈا بعض سیاسی عناصر کے مذموم عزائم کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد پاکستان کے عوام ، مسلح افواج اور اداروں کے درمیان دراڑ پیدا کرنا ہے۔ کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ بیرونی عناصر کی مدد سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کی ایسی مذموم کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہونگی۔۔شرکا کانفرنس کا کہنا تھا کہ پاک فوج ملک و قوم کی خدمت بغیر کسی تعصب اور سیاسی وابستگی کے کرتی ہے۔ پاک فوج تمام اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے ملک کی حفاظت کرتی رہے گی، ذاتی مفادات کے حصول کے لئے معصوم شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے اور تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔


































