
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی اور مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جہلم امام حسین علیہ السلام کے ایام قریب ہیں، اس موقع پر وزیر داخلہ حسن نقوی کی جانب سے بلوچستان کے راستے ایران، عراق جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ہم حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے زمینی راستوں سے زیارت پر جانے والے زائرین پر پابندی قابل قبول نہیں، زائرین کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، راستے کھلے رکھے جائیں ، پاکستان سمیت ایران و عراق میں جنگی حالات نہیں جس کی وجہ سے حکومت اتنے بڑے اقدامات کرے۔ یہ ایک غیر آئینی اقدام ہے اور بنیادی حقوق کی علم کھلا خلاف ورزی ہے۔ دہشتگردی کے نام پر حکومت کی جانب سے صرف زیارات پر جانے والے زائرین پر پابندی لگانا حکومتی نا اہلی ہے، اربعین کی زیارات کے حوالے سے زائرین اور قافلہ سالاروں کے اربوں روپے کے اخراجات ہو چکے۔ اربعین جیسے مقدس سفر کو ایک بیان کے ذریعے زمینی راستوں کی بندش کا اعلان کر کے روک دینا عوام سے زیادتی ہے جس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا جبکہ حکومت کی جانب سے زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا لیکن حکومت کا اچانک یہ یوٹرن معنی خیز ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ وہ تفتان پر سیکورٹی تھرٹ سے نمٹنے کی اہل نہیں تو رمدان بارڈر پر زائرین کو فول پروف سیکورٹی کے ساتھ آمد ورفت کی سہولت فراہم کرے یا حکومت اگر سیکیورٹی فراہم نہیں کرسکتی اور عوام کے تحفظ میں اپنی ناکامی تسلیم کرتی ہے تو پھر معاوضے کے طور پر کوئٹہ سے تفتان تک زائرین کو بائی ائیر کی فری سہولت فراہم کرے اور خالی بسیں تفتان بارڈر پر پہنچائے تاکہ زائرین بر وقت اور حفاظت کے ساتھ ایران کے راستے عراق کربلا روانہ ہوسکیں۔ مسئلے کے حل کیلئے وزیر داخلہ سمیت حکومت کے سنجیدہ حکام سے رابطے کی کوششیں جاری ہیں اور اگر ملاقات سے روگردانی کر کے مسئلے کے حل کیلئے کوئی راہ حل تلاش نہ کیا گیا اور یکطرف طور پر فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ہمارے پاس بھی تمام آپشنز اوپن ہیں، جس کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا لہذا حکومت سے اپیل کہ وہ اس اہم مسئلے پر فوری نظر ثانی کرے اور اربعین جیسے مقدس زیارتی سفر کیلئے زمینی راستوں سے جانے والے زائرین پر لگائی جانے والی پابندی کا فیصلہ واپس لے۔


































