
رام اللہ : فلسطینی مزاحمتی دھڑوں نے بالفور اعلامیے کو فلسطینی عوام کے خلاف ظلم، دہشت گردی اور صیہونی نسل کشی کی بنیاد قرار دیا ہے۔
بالفور اعلامیہ کے ایک سو آٹھ سال پورے ہونے پر مشترکہ بیان میں مزاحمتی تنظیموں نے عالمی طاقتوں پر دُہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہی طاقتیں جنہوں نے بالفور اعلامیے کی پشت پناہی کی تھی۔ آج بھی اسرائیلی قبضے اور اس کے رہنماؤں کو جواب دہی سے بچا رہی ہیں اور فلسطینی شہریوں کے قتل کے لیے ہتھیار فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے اسے انسانیت سے لاتعلقی اور اخلاقی اقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ دھڑوں نے واضح کیا کہ بالفور اعلامیہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوسکتا، اور فلسطینی عوام اپنی زمین اور قومی حقوق سے ایک ذرہ بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ مزاحمتی دھڑوں نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام اپنی مزاحمت کے تمام طریقوں، خصوصاً مسلح جدوجہد، کو جاری رکھیں گے تاکہ اسرائیلی جرائم کا مقابلہ کیا جاسکے۔
واضح رہے کہ دو نومبر 1917 کو برطانیہ کے اُس وقت کے وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے ایک خط کے ذریعے فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔


































