
باکو: آذربائیجان نے نگورنو کاراباخ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا جبکہ 70 ہزار سے زائد آرمینیائی باشندے آرمینیا منتقل ہوگئے ہیں۔ نگورنو کارا باخ میں آذبائیجان کے فوجی آپریشن کے دوران آرمینیائی باشندوں کا انخلاء جاری رہا اور نگورنو کاراباخ کو آرمینیا سے ملانے والی واحد سڑک پر گھنٹوں ٹریفک جام ہوگیا نگورنو کارا باخ میں 1 لاکھ 20 ہزار نسلی آرمینائی افراد میں سے 85 فیصد علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔ نگورنو کاراباخ کی علیحدگی پسند حکومت نے بھی خود کو تحلیل کردیا ہے۔ یہ اعلان ایک معاہدے کے تحت کیا گیا ہے جس میں آذربائیجان نگورنو کاراباخ کے رہائشیوں کی آزاد، رضاکارانہ اور بلا روک ٹوک نقل و حرکت کی اجازت دے گا۔ ادھر آذری حکام نے نگورنو کاراباخ کی علیحدگی پسند حکومت کے سابق سربراہ روبن وردانیان کو گرفتار کرلیا ہے اور انہیں دارالحکومت باکو لے جایا گیا ہے۔ نگورنو کاراباخ آذربائیجان کا علاقہ ہے جو 1994 میں ختم ہونے والی علیحدگی پسند لڑائی میں آرمینیائی فوج کی حمایت یافتہ نسلی آرمینیائی افواج کے کنٹرول میں آیا تھا۔


































