
مظفرآباد: وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کے بعد حالات معمول پر آگئے۔ موبائل فون سروس بحال ہوگئی جبکہ کاروباری مراکز بھی کھل گئے اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
تین روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا۔ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی وفد کے درمیان معاہدے پر دستخط کردئے گئے۔ معاہدے کے مطابق پرتشدد واقعات سے ہلاکتوں پر انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمات درج ہوں گے، یکم اور لواحقین کو معاوضہ دیا جائے گا، زخمیوں کو فی کس 10 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ معاہدے میں طے پایا کہ شہداء کے خاندان میں ایک شخص کو 20 دن میں سرکاری نوکری دی جائے گی، مظفرآباد، پونچھ ڈویژن میں 2 اضافی سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ بنائے جائیں گے، دونوں بورڈ کا فیڈرل بورڈ سے الحاق کیا جائے گا۔ معاہدہ کے مطابق آزاد کشمیر حکومت 15 دن میں ہیلتھ کارڈ کیلئے فنڈز جاری کرے گی، حکومت پاکستان بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری کیلئے 10 ارب روپے دے گی۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے مفاد کو مدنظر رکھا گیا، یہ آزاد کشمیر کے عوام اور جمہوریت کی جیت ہے۔
پی پی پی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کشمیر میں جو کشیدگی تھی اس پر سب کو افسوس ہے، کشمیر کے عوام نے بھی آج سکھ کا سانس لیا، آزاد کشمیر میں امن بحال ہوا ہے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل حل کیے جائیں گے، تشدد کے عنصر سے کوئی چیز اچھی نہیں ہوتی، کشمیری ہمارے بھائی ہیں، ان کا مفاد عزیز ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔


































