
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ دباؤ اور دھونس کے ذریعے ایران کو جھکانے کی تمام کوششیں ماضی کی طرح ناکام ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام خط میں عباس عراقچی نے برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی جانب سے پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کی کوششوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی طاقتوں نے تعاون کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا ہے، حالانکہ ایران ہمیشہ متوازن اور پائیدار حل کے لیے سفارتکاری پر آمادہ رہا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ مغربی ممالک غلطی پر ہیں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران دباؤ میں آ جائے گا، کیونکہ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا اگر کسی نے ایران کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس کا جواب مناسب انداز میں دیا جائے گا اور اس کی مکمل ذمہ داری دباؤ ڈالنے والوں پر عائد ہوگی۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبيو نے ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے فوری طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہونا چاہیے۔ روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ سفارت کاری اب بھی ایک راستہ ہے اور کسی معاہدے تک پہنچنا ایرانی عوام اور دنیا کے لیے بہترین نتیجہ ہوگا۔


































