
دبئی : متحدہ عرب امارات نے مغربی کنارے کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے الحاق کیا تو ابراہیمی معاہدہ خطرے میں پڑسکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ کی خصوصی ایلچی لانا ذکی نصیبہ نے ٹائمز آف اسرائیل کو انٹرویو میں کہا کہ مغربی کنارے کا اسرائیل کے ساتھ الحاق کا مطلب یہ ہوگا کہ دو ریاستی حل ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائے گا۔ لانا نصیبہ نےکہاکہ عرب ملک اب بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی پر بات کرنے کو تیار ہیں لیکن اگر اسرائیل انتہا پسند عناصر کو خوش کرنے کے لیے مغربی کنارے کا الحاق کرتا ہے تو یہ موقع ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستیں بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا سکتی ہیں، لیکن اس کی شرط یہی ہے کہ اسرائیل نہ صرف الحاق ترک کرے بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ٹھوس اور ناقابلِ واپسی راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ صدر ٹرمپ ابراہم معاہدے کی کامیابی کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں خراب نہیں ہونے دیں گے۔


































