
نیویارک : اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی آبادی 8 ارب تک پہنچ چکی ہے۔ دنیا بھر میں سال 2011 میں 7 ارب آبادی تھی جو اب سال 2022 میں 8 ارب تک پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں ایک ارب کا اضافہ 11 سال میں ہوا۔ تاہم 9 ارب تک پہنچنے میں 15 سال لگ سکتے ہیں، کیونکہ 20 ویں صدی کے دوسرے نصف میں بڑے اضافے کے بعد آبادی میں اضافہ اب سست ہونا شروع ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کو 2080 تک 10 ارب تک پہنچنے کی امید نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 8 ارب آبادی لمحہ فکریہ ہے۔ صرف آبادی کے ہندسے پر توجہ دینے کے بجائے ہمیں ٹھوس شواہد کے ساتھ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، اس کا حل آبادی کو کم یا زیادہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کرکے بڑھتی ہوئی آبادی سے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یکساں حقوق اور مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔ اس آبادی کا نصف حصہ ایشیا سے ہے ۔ صرف پاکستان کی آبادی 1.9 فیصد کی سالانہ شرح سے بڑھ رہی ہے۔ اور اس وقت پاکستان میں شرح پیدائش 3.6 فیصد ہے۔ اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی کے مطابق پاکستان ان 8 ممالک میں شمار ہوتا ہے جو 2050 تک دنیا کی متوقع آبادی کا لگ بھگ نصف ہوں گے اسی طرح چند ممالک میں بھی ایسی صورتحال ہے جن میں ڈی آر کانگو، مصر، ایتھوپیا، بھارت، نائجیریا، فلپائن اور تنزانیہ شامل ہیں۔


































