
جنیوا : اقوام متحدہ کی آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ پر مستقل کنٹرول حاصل کرنے اور مغربی کنارے میں یہودی اکثریت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیاہےکہ اسرائیلی پالیسیوں میں فلسطینیوں کو زبردستی منتقل کرنے، یہودی آبادکاری کو بڑھانے اور مغربی کنارے کے تمام حصے کو ضم کرنے کی واضح اور مسلسل کوششیں شامل ہیں۔ جو فلسطینی خودمختاری کو روکنے کے مترادف ہیں۔
کمیٹی کی چیئرپرسن ناوی پیلے نے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹریچ کے حالیہ اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے مغربی کنارے کے 82 فیصد حصے کو ضم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام فلسطینی کمیونٹیز کی بے دخلی اور نقل مکانی کو فخر کے ساتھ اپنا مقصد قرار دے رہے ہیں، جو کہ قابل مذمت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی آپریشنز، جیسے جنین، طولکرم اور نور شمس پناہ گزین کیمپوں میں، عمارتوں کو تباہ کرنے، رہائشیوں کو بے گھر کرنے اور اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہیں۔ کمیٹی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی اراضی کی ضبطی اور استعمال کو فوری طور پر ختم کرے اور تمام ضبط شدہ اراضی کو اصل مالکان کو واپس کرے۔


































