
پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں امن و امان کی خراب صورتحال کیخلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔ مقامی شہری کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں صوبائی و وفاقی حکومت اور وفاقی محکمہ داخلہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ کرم میں سٹرکوں کی بندش، صحت کی بنیادی سہولیات سے شہری محروم ہیں، امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث شہری نہ ضلع کرم سے آسکتے ہیں اور نہ ہی جاسکتے ہیں۔
درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ کرم میں ٹرانسپورٹ اور موبائل سروس بھی بند ہے، گزشتہ 2 سے 3 مہینوں سے ضلع کرم میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہیں، خوراک کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، ضلع کرم کے شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ ضلع کرم میں امن و امان بحال، مراکز صحت اور تعلیمی ادارے کھولے جائیں، درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
پاراچنار ٹل شاہراہ ہر قسم آمد و رفت کیلئے تاحال بند. پارا چنار کو دوسری اضلاع سے لنک کرنے والی سڑک گزشتہ 2 ماہ سے بند ہے، شہر میں اشیائے خوردونوش، ادویات، ایندھن، ایل پی جی اور لکڑی سمیت ہر چیز ناپید ہوگئی۔
پاراچنار ٹل واحد مین شاہراہ 12 اکتوبر سے لے کر اب تک ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند ہے، جس کے باعث ضلع کرم کے صدر مقام پاراچنار شہر کو ہر قسم کی سپلائی معطل ہونے سے شہری ایک کلو چینی، گھی، آٹے اور نمک کے لیے ترس گئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں غذائی قلت پیدا ہوگئی شہر میں ایک کلو آلو کی قیمت 350 روپے، ٹماٹر 200 روپے اور پیاز 300 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔


































