
لندن : ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب سے اپوزیشن اور مخالفین پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ عالمی ادارے نے سعودی حکومت کے نام خط میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور ان کے اہلخانہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر زور دیا۔ مرد اور خواتین کارکنوں پر پابندی ختم کریں کے عنوان سے لکھے گئے خط میں حزب اختلاف کے ساتھ سعودی حکومت کے سلوک پر تنقید کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے محافظوں اور مرد و خواتین کارکنوں کو طویل عرصے سے ملک چھوڑنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ یہ سزائیں ایسی صورت حال میں ہیں کہ جب گزشتہ تین برسوں میں سعودی حکام نے بین الاقوامی طورپر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے بہت کوششیں کیں جس کا سعودی معاشرے نے مشاہدہ کیا ہے تاہم حالیہ کچھ برسوں انسانی حقوق کے درجنوں مخالفین ،کارکنوں، صحافیوں اور مذہبی علما کو محض اپنے عقائد کا اظہار کرنے اور رائے کے اظہار کے لیے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور وہ حقیقت ہے جو سعودی عرب میں موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے 35 مخالفین کو گرفتار کرکےطویل قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ اُنہیں محض اپنی رائے کا اظہار کرنے اور سیاسی اصلاحات کی ضرورت کا مطالبہ کرنے کے بارے میں ٹویٹ کرنے کی سزا دی گئی ہے۔ آزادی کے بعد بھی ان میں سے بہت سے افراد آزاد نہیں ہیں اور 5 سے 20 سال تک ملک چھوڑنے کا حق ان سے سلب کر لیا گیا ہے۔


































