
ریاض: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ غزہ پر مظالم میں اسرائیل کے ساتھ امریکا بھی شریک ہے. اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں، ہمیں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ماتھے اور ہاتھ چومنےکی ضرورت ہے. اسرائیلی مظالم عالمی قوانین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ریاض میں جاری عرب اسلامی سربراہ کانفرنس سے خطاب میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی مظالم کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، صیہونی ایجنڈے کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ اسرائیل نے غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنادیا ہے، عالمی برادری جواب دے غزہ کے معصوم بچوں اور خواتین کا کیا قصور ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکا فاشسٹ اسرائیل کی حمایت کرکے اس کے جنگی جرائم میں شریک ہورہا ہے۔ وہ غزہ کو تباہ کرنے کےلیے اسرائیل کو جنگی ہتھیار اور پیسا دے رہا ہے، آج مسجد اقصیٰ کا تحفظ کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔ مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والوں کو صیہونی ریاست سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں خواتین پر بم برسانا انسانیت سوز جرم ہے، اسرائیلی جارحیت روکنے کےلیے مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہو گا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ غزہ کے شہریوں کی حفاظت کےلیے ہر ممکن اقدامات کرنا ہوں گے۔
ایرانی صدر نے فلسطین اسرائیل تنازعہ کے پائیدار حل کے لیے 10 نکاتی تجویز بھی پیش کی۔


































