
بیروت : حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے امریکا کو جنگ روکنے کا واضح الٹی میٹم دے دیا۔ سید حسن نصر اللہ نے کہاکہ آپریشن طوفان الاقصٰی سو فیصد فلسطینیوں کا فیصلہ تھا۔ اس نے اسرائیل میں زلزلہ پیدا کیا۔
انہوں نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ اس وقت کئی علاقوں میں پھیل چکا ہے۔ شہدا اس وقت زندہ ہیں، خوش ہیں اور بشارت طلب ہیں، سب شہداء کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، کیونکہ وہ جوار رحمت میں ہیں۔ شہداء کی فیملیز کو مبارک باد پیش کرتا ہوں. صیہونیوں سے جنگ سے زیادہ با فضیلت جہاد نہیں، یہ عجیب با فضیلت جہاد ہے. یہ مکمل طور پر قانونی اور شرعی جہاد ہے، جس کے بارے کوئی شک نہیں شہداء کے خاندان کتنے عظیم ہیں، ان پر افتخار ہے، غزہ کی عوام کی استقامت بھی کیا عجیب استقامت ہے، جس کی کوئی حد نہیں۔ میں ان سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو مقاومت کے ساتھ کھڑے ہیں، خصوصاً عراقی مجاہدیں، اور یمینی مجاہدہں کو۔
جو کوئی علاقائی جنگ کو روکنا چاہتا ہے، اسے غزہ کی پٹی پر جنگ کو جلد بند کرنا چاہیے۔امریکا جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کی مذمت کو روکتا ہے اور اسی لئے امام خمینی(رح) نے کہا کہ امریکہ شیطان بزرگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو یہ پوچھتے ہیں کہ کب جنگ میں شامل ہو جائیں گے؟ میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم 8 اکتوبر کو جنگ میں داخل ہوچکے ہیں۔ حقیقت میں ہم دوسرے دن سے ہی جنگ میں داخل ہو چکے ہیں۔ 57 لبنانی مزاحمت کار شہید ہو چکے ہیں۔ لبنانی محاذ پر پیش آنے والے حادثات انتہائی اہم ہیں۔ ہم سرحدوں پر حملے پر اکتفا نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ والوں کی حمایت جس طرح سے بھی ممکن ہو کرنی چاہیے، یہ انسانیت کا تقاضہ ہے، اگر کوئی خاموش ہے، تو وہ اپنی انسانیت میں شک کرے، دیندار دیندار ہونے میں شک کرے، شریف اپنی شرافت پر شک کرے، اگر کوئی خاموش رہتا ہے جو آج غزہ میں ہو رہا ہے یہ سب سے مختلف ہے، لہذا سب اپنی ذمہ داری کا احساس کرے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی جنگ میں دو مقاصد حاصل ہونا چاہیے۔ پہلا مقصد انسانی اور دینی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی اور دوسرا حماس کی جیت، حماس کو ہر حال میں جیتنا چاہیے۔ آج غزہ کی فتح خطے کے تمام ممالک کے قومی مفاد کے لیے ضروری ہے۔ اگر غزہ ناکام ہوا تو خطے کے تمام ممالک اور لبنان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ اسرائیل کو سامان برآمد کرنا بند کیا جائے، اسرائیل کو تیل اور کھانے کی ترسیل بند کی جائے۔
انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ صیہونی حکومت کے خلاف تمام آپشنز میز پر ہیں۔ امریکا نے غزہ کی جنگ کو وسعت دی تو اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ہمیں امریکی بحری جہازوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا۔ حسن نصر اللہ نے لبنانی محاذ کھولنے سے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے خلاف کوئی کارروائی کی جائے تو یہ دشمن کی سب سے بڑی حماقت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ غزہ کو دکھا کر ہمیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم استقامت اور مجاہدت کے راستے کا انتخاب کر چکے ہیں اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ کوئی عام جنگ نہیں بلکہ فیصلہ کن اور تاریخی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے وعدے پر یقین رکھتے ہوئے یہ یقین ہے کہ جیت ہماری ہے، چاہے کتنی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑے، رہبر معظم فرماتے ہیں کہ غزہ کی جیت ہوگی، انہوں نے ہمیں 2006 میں کہا تھا کہ تم لوگ جیتو گے، اور جیت کے کوئی آثار نہین تھے، اور کہا تم لوگ خطے کی بڑی قوت بنو گے، میں فلسطینیوں سے کہتا ہوں کہ جیت تمہاری ہوگی اور عنقریب ہم اس جیت کا جشن منائیں گے۔


































