
نیویارک: نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کشمیر کو پاک-ہند امن کی بنیاد قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہندوتوا انتہاپسندی سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کا انسداد کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس سے خطاب میں انوارالحق کاکڑ نےکہاکہ جموں وکشمیر کا تنازعہ سلامتی کونسل کے پرانے تنازعات میں سے ایک ہے۔ ہندوستان نے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے گریز کیا ہے انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ہمیں بڑھتی ہوئی انتہائی دائیں بازو کے انتہاپسند اور فاشسٹ گروپس سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کا بلاامتیاز انسداد کرنا چاہیے۔ ہندو توا سے متاثر انتہاپسند بھارت کے مسلمانوں اور عیسائیوں کی نسل کشی کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ اقوام متحدہ کشمیر کے حوالےسے اپنی قراردوں پر عمل درآمد یقینی بنائے، پاکستان اور ہندوستان میں فوجی مبصرین کو دوبارہ تعینات کردینا چاہیے۔ عالمی طاقتوں کوچاہیےکہ وہ نئی دہلی کو قائل کریں کہ پاکستان کی اسٹریٹجک اور روایتی ہتھیاروں کے استعمال سے گریز کی پیش کش قبول کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں نئے اور پرانے عسکری بلاکس اور جیو پالیٹکس ہو رہی جب معیشت کو اولیت ملنی چاہیے۔ غربت اور بھوک میں اضافہ ہوگیا ہے، 3 دہائیوں کی ترقی کے فائدے تنزلی کا شکار ہوگئے ہیں، ڈیولپمنٹ کے لیے ہمیں پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول یقینی بنانا ہوگا۔


































