
غزہ: صیہونی جنگی طیاروں نے رات بھر جنوبی غزہ میں خان یونس اور رفح پر فضائی حملے کئے۔ وحشیانہ بمباری میں 70 سے زائد افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ جنگی طیاروں رات بھر غزہ پر 200 سے زیادہ فضائی حملے کئے جبکہ توپ بھی جنوبی غزہ پر آگ اگلتے رہے۔ خان یونس میں حملوں سے کئی مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے جبکہ پچیس سے زائد افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ صیہونی فوج نے رفح میں بھی موت کا کھیل جاری رکھا۔ وحشیانہ حملوں میں 52 افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ شہدا اور زخمیوں کی بڑی تعداد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ سات اکتوبر سے جاری صیہونی حملوں میں شہدا کی تعداد 29 سو سے تجاوز کر گئی ہے جس میں ایک ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔ جبکہ دس ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔
فضائی حملوں میں تباہ مکانات اور عمارتوں کے ملبے میں ایک ہزار افراد کے دبے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ فلسطین کے محکمہ شہری دفاع اور وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
دوسری جانب غزہ کی ناکہ بندی سے انسانی بحران شدید ہو گیا، جہاں پانی، غذا اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ریڈ کریسنٹ کا کہناہےکہ اسپتال چلانے کےلیے ایندھن ختم ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ دس لاکھ فلسطینی شمالی غزہ سے جنوب کی جانب نقل مکانی کر چُکے ہیں۔ جس سے نیا بحران جنم لے رہا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد روک رکھی ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہورہی ہے۔ اُدھر اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حماس کے حملوں کے بعد 5 لاکھ اسرائیلی شہریوں نے نقل مکانی کی ہے اور غزہ کے اطراف تمام آبادیوں کو حکومتی ہدایات کے مطابق خالی کرا دیا گیا ہے۔


































