
Palestinian girls crowd to receive food portions from a charity kitchen in a refugee camp in Khan Younis, southern Gaza Strip, on Friday, May 30, 2025. Photo by Anas Deeb/UPI Photo via Newscom (KEYSTONE/NEWSCOM/Anas Deeb)
جنیوا : سیو دی چلڈرن کی غزہ میں امدادی کارروائیوں کی ڈائریکٹر جارجیا ٹیسی نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں کو بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم صرف کچھ بنیادی خدمات فراہم کر رہے ہیں، جب کہ ہم معمول کی امداد جیسے خوراک، صفائی کے کٹس کی فراہمی بھی نہیں کر پا رہے کیونکہ ہمارے گودام خالی ہیں اور ہمارا سارا سامان ہزاروں ٹرکوں میں سرحد پر پھنسا ہوا ہے۔ جارجیا ٹیسی نے کہا کہ یہاں غصے، مایوسی اور بے بسی کے جذبات کی ایک لہر سی چل رہی ہے، میں اس شعبے میں 20 سال سے کام کر رہی ہوں، مگر ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ نظام ناکامی کے لیے ہی بنایا گیا ہے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ سرحدیں کھولی جائیں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیا جائے جب کہ بچے وہ سب کچھ بھلا نہیں سکتے جو انہوں نے دیکھ لیا ہے۔


































