
واشنگٹن : امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے سازشی منصوبے سے پردہ اٹھادیا۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کا کنٹرول ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ہو گا اور فلسطینی آبادی کو غزہ سے نکال دیا جائے گا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق غزہ کے مستقبل کا منصوبہ ابتدائی طور پر 38 صفحات پر مشتمل ہے۔ ٹرمپ اپنے انتہائی قریبی افراد کے ساتھ منصوبے پر مشاورت کررہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بعد از جنگ غزہ کو کم از کم دس سال کے لیے امریکی ٹرسٹی شپ میں دینے کا منصوبہ ہے۔ یہ مدت اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ منصوبے کا دوسرا حصہ غزہ میں ‘ریویرا’ کا ٹرمپ کا خواب پورا کرنا ہے۔ تاکہ غزہ کو ایک خوبصورت سیاحتی مرکز بنایا جا سکے۔ منصوبے کے حوالے سے دو تجاویز زیر غور ہیں کہ فلسطینی خوشی خوشی یہاں سے دوسرے ملکوں میں جا بسیں۔ دوسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ غزہ کے نئے تعمیراتی منصوبے پر عمل کے دوران فلسطینی غزہ کی پٹی پر بنائے گئے پناہ گزین کیمپوں میں چپ چاپ رہیں اور تعمیراتی منصوبے میں رکاوٹ نہ بنیں۔


































