Tue Oct 20, 2026

ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ، یہود دشمنی پر تادیبی کارروائی کی شقیں بھی شامل البانیہ میں پرتشدد مظاہروں میں مزید شدت، دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں امریکی وزیرِ جنگ کا اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ، نیتن یاہو سے ملاقات: ایگزیوس امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور سینیٹ ارکان کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق امریکی کارروائی کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، پاسداران انقلاب روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

روزانہ کی خبریں

افغانستان قحط کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، اقوام متحدہ کا انتباہ

نیویارک : اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان قحط کے دہاث پر پہنچ گیا ہے اور اس کی ساٹھ لاکھ آبادی انتہائی مفلسی کی حالت میں ہے جبکہ موسم سرما کے دوران بدترین حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی امداد کے سربراہ مارٹن گریفتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ موسم سرما گزارنے کے لیے افغانستان کے عوام کو 77 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ڈونرز پر زور دیتے ہوئے کہا افغانستان کی فنڈنگ بحال کی جائے مارٹن گریفتھ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اس وقت افغانستان کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے جن میں انسانی، معاشی، موسماتی، بھوک اور غربت جیسے مسائل شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تنازعات، غربت کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں نے طویل عرصہ سے افغانستان کو مشکلات میں ڈالا ہوا ہے تاہم اس وقت سب سے معاملہ اس امداد کا ہے جو ایک سال طالبان کی حکومت آنے کے بعد ممالک نے روک دی تھی۔افغانستان کی آدھی سے زیادہ آبادی جو دو کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے جو مدد کی شدید ضرورت ہے جبکہ ایک کروڑ 90 لاکھ خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر ہے کہ ان اعداد وشمار میں جلد ہی اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ موسم سرما آنے والا ہے اور اس دوران ایندھن اور خوراک کی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا جبکہ وہ پہلے سے بھی کافی زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular