
غزہ : غزہ میں دو سالہ جارحیت میں حماس ختم ہوئی نہ یرغمالی آزاد کرائے جاسکے۔ اسرائیل جنگ کا کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسرائیل کو بڑھتے عالمی دباؤ اور تنہائی نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔
اسرائیل نے تین روزہ مذاکرات کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر دستخط کئے تو اہلیان غزہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یرغمالیوں کی رہائی کی اطلاع پر تل ابیب کی سڑکوں پر بھی جشن منایا گیا۔یرغمالیوں کی منتقلی کیلئے ریڈ کراس کی گاڑیاں غزہ میں داخل ہوگئی ہیں۔ معاہدے کے پہلے مرحلے میں بیس یرغمالی جبکہ ڈھائی سو عمر قید کے قیدیوں سمیت دو ہزار فلسطینی رہا کئے جائیں گے۔ ہلاک یرغمالیوں کی لاشیں بعد میں واپس کی جائیں گی۔
چار سو امدادی ٹرک روزانہ داخل ہوں گے جبکہ رفح بارڈر کراسنگ بھی دوبارہ کھولی جائے گی۔ اسرائیلی فوج مقررہ حدود تک پیچھے ہٹ جائے گی۔ معاہدے کا اعلان امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ رات سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضبوط، پائیدار اور دائمی امن کی طرف پہلا قدم ہوگا۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے معاہدہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ توقع کی جانی چاہیے کہ جنگ روکی جائے گی۔


































