
تہران : ایران میں افغانستان کے پڑوسی ممالک نے افغان مسائل کا واحد حل مشترکہ اور وسیع البنیاد سیاسی ڈھانچے کا قیام قرار دے دیا۔ تہران میں وزرائے خارجہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے مسائل کا حل ایسا سیاسی ڈھانچہ ہے جس میں تمام نسلی و سیاسی گروہوں کی شمولیت ہو ۔ افغانستان میں افغان عوام کا طرز زندگی بہتر بنانے کے ساتھ نسلی گروہوں، خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ افغانستان کی خودمختاری، سیاسی آزادی، یکجہتی اور علاقائی سالمیت میں تعاون کی ضرورت ہے اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ تہران کانفرنس میں زور دیا گیا کہ افغانستان کی مشکلات کے ذمہ دار ممالک افغان مسائل کے حل میں فوری کردار ادا کریں اور افغانستان میں انسانی اور معاشی امداد فراہم کریں تاکہ عسکری گروہ لوگوں کو اپنا آلہ کار نہ بنا سکیں۔ اجلاس کے شرکا نے افغان مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر بھی زور دیا، طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ دہشتگردوں سے تعلقات ختم کرنے اور فیصلہ کن کارروائی کرے، عالمی برادری سے کئے گئے وعدے پورے کریں، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین ہمسائیہ ممالک کیلئے کسی قسم کا خطرہ نہیں بنے گی۔ دہشتگردوں اور علیحدگی پسندوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عالمی برادری اور عطیات دینے والے بڑے ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک بالخصوص پاکستان، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک کی معاشی امداد کریں۔عالمی برادری افغانستان میں انتہائی ضروری انسانی امداد بشمول غذا، ادویات اور سردی سے بچائو کی چیزیں فوری طور پر فراہم کرے تاکہ پڑوسی ممالک میں مہاجرین کے نئے بہاو کو روکا جاسکے۔


































