
Women wave national flags as they hold up posters of the late commander of the Iran’s Revolutionary Guard expeditionary Quds Force, Gen. Qassem Soleimani, who was killed in a U.S. drone attack in 2020 in Iraq, during a ceremony commemorating his death anniversary at the Imam Khomeini grand mosque in Tehran, Iran, Thursday, Jan. 1, 2026. (AP Photo/Vahid Salemi)
تہران : ایران میں حالیہ فسادات کے دوران اکتیس سو سترہ افراد مارے گئے۔ حکومت نے چوبیس سو ستائیس شہریوں۔ مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کو شہید قرار دے دیا
فسادات پر حکومتی رپورٹ کے مطابق سینکڑوں سرکاری عمارتیں۔ بینکس۔ مساجد۔ مزارات گاڑیوں کو جلایا گیا۔ فسادات سے حکومت کو تیس کھرب ریال سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ایران کی شہید فاؤنڈیشن کے مطابق فسادات میں مسلح فتنہ گروں نے سفاکیت اور داعشی طریقے سے لوگوں کو قتل کیا، بعض افراد کو زندہ جلایا اور بعض کا بے دردی سے سر تن سے جدا کردیا۔ فسادات کے دوران اکتیس سو سترہ افراد مارے گئے۔ حکومت نے چوبیس سو ستائیس شہریوں۔ مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کو شہید قرار دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق فتنہ گروں نے 469 سرکاری عمارتوں ۔ 702 بینکس اور 419 سپرمارکیٹس کو لوٹ کر جلایا یا ملیا میٹ کردیا۔ 484 مساجد اور امام زادوں کے مزارات کو نقصان پہنچا یا انھیں آگ لگا دی گئی۔ پولیس کی 740 گاڑیوں۔ 305 عوامی ٹرانسپورٹ اور درجنوں نجی گاڑیوں کو جلایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق فتنہ گروں کیخلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اب تک ایک سو باسٹھ فتنہ گر لیڈروں سمیت سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے انیس ہزار نو سو اموات اور چھبیس ہزار سے زائد گرفتاریوں کا دعویٰ کیا ہے۔


































