
عمان: اسرائیلی حکام نے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت مزید ایک سو اکتیس رضاکاروں کو قید سے رہا کرکے ملک بدر کردیا۔ تمام افراد اردن پہنچ گئے ہیں۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہےکہ جیل میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے اوپر کتے چھوڑے گئے اور بندوقیں تانی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے مطالبات کے لیے 3 دن تک بھوک ہڑتال جاری رکھی لیکن ہمیں پینے کے لیے پانی، ہوا اور طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا، یہاں تک کہ ہمیں کسی بھی چیز تک رسائی نہیں دی گئی۔
جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر کا کہنا تھا کہ الحمداللہ ہم رہا ہوچکے ہیں لیکن فلسطین کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی، اس ناکہ بندی کو ہم توڑیں گے اور اس کے لیے بار بار جائیں گے، غزہ کو بچانے کی کوشش کریں گے اور نسل کشی کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل سے اسرائیلی جیل تک مزاحمت جاری رہے گی اور فلسطین کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھے گیں، جلد پاکستان آؤں گا اور گلوبل صمود فلوٹیلا اور اسرائیل جیلوں کی مکمل تفصیل بتاؤں گا، اسرائیل کے خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔


































