Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

سانحہ اے پی ایس پشاور کے 10 سال مکمل، زخم آج بھی تازہ

پشاور: سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کی دسویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ 16 دسمبر سال 2014 کو امن اور تعلیم کے دشمنوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا، دہشت گرد سکول کے عقبی راستے سے صبح 10 بجے کے قریب عمارت میں داخل ہوئے، اس وقت آٹھویں ،نویں اور دسویں جماعت کے طالب علم آڈیٹوریم میں تربیت میں مشغول تھے۔
دہشت گردوں نے ہال میں داخل ہوتے ہی ہر طرف اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور اے پی ایس کی دیواروں کو خون سے رنگ دیا، دہشتگردوں کی فائرنگ سے پرنسپل ،اساتذہ ،طلبہ اور دیگر عملے سمیت 140 سے زائد افراد شہید ہوئے۔
سانحہ اے پی ایس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نئی روح پھونکی، نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا اور قبائلی علاقوں سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہوا۔
بعدازاں اے پی ایس حملے میں ملوث 6 دہشتگردوں کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا جنہیں ملٹری کورٹس نے موت کی سزائیں بھی سنائی تھیں۔
سانحہ آرمی پبلک سکول کو تو دس سال بیت گئے لیکن اس افسوسناک واقعہ کی یادیں آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔
سانحہ اے پی ایس اور سقوط ڈھاکہ یاد میں آج لاہور اور جڑواں شہروں میں تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ گجرات اور سیالکوٹ میں بھی تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular