
کسی کے انفرادی اقدام پر اسلامی دہشت گردی یا اسلامی فاشزم قراردینا درست نہیں،کیا دنیا بھر میں امریکی جرائم کوعیسائیت کے ساتھ منسوب کیا جا سکتا ہے؟
مغرب دہشت گردوں کی حمایت سے ہاتھ اٹھالے کیونکہ یہ ان کی طرف ہی پلٹ کر واپس آئے گا، فرانس کا آزادی اظہار کا دعویٰ ڈھونگ ہے،ہفتہ وحدت پر خطاب
بیروت (نیوزڈیسک) حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے لئے پیغمبر اسلام کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی اور توہین ناقابل برداشت ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت باسعادت اور ہفتہ وحدت کے آغاز کی مناسبت سے خطاب میں حسن نصراللہ نے کہا کہ جس طرح کسی عیسائی کے دہشت گردانہ اقدام پرعیسائیت یا حضرت عیسی کے ساتھ منسوب نہیں کیا جاسکتا اسی طرح کسی مسلمان کے اقدام پر اسے اسلامی دہشت گردی یا اسلامی فاشزم قراردینا درست نہیں، فرانسیسی حکام سمیت کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایسے اقدامات کو دین یا دین کے پیروکاروں کے ساتھ منسوب کر دیں جبکہ ایسی کوئی بھی حرکت نہ صرف غلط بلکہ غیر اخلاقی و غیر قانونی بھی ہے،حسن نصراللہ نے دنیا بھر میں امریکی جرائم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ان تمام جرائم کو عیسائیت کے ساتھ منسوب کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا یہ کہنا درست ہے کہ امریکی دہشتگردی عیسائی دہشت گردی ہے؟ بعض مسلمانوں کے اسلام کی تعلیمات کو پامال کرنے سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اسلام کی توہین کرے، سید حسن نصراللہ نے تکفیری سوچ کو حاصل مغربی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک نے اس تکفیری و دہشتگردانہ سوچ کی کھل کر حمایت کی جو صرف فکری اختلاف پر ہی قتل و غارت کا بازار گرم کرنے پر اتر آتی ہے،انہوں نے یورپی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان دہشت گردوں کی حمایت سے ہاتھ اٹھالیں کیونکہ یہ بالآخران کی طرف ہی پلٹ کر واپس آئے گا ،انہوں نے فرانس کے آزادی اظہار کے دعویٰ کو ڈھونگ قرار دیا اور یاد دلایا کہ فرانس کے معروف فلسفی، لکھاری اور یونیورسٹی استاد راجر گارودی کو صرف ہولو کاسٹ سے انکار کی بنیاد پر جیل میں ڈال دیا گیا تھا ،ایسی بے شمار مثالیں پورے یورپ میں موجود ہیں


































