
امریکا سینچری ڈیل کے ذریعے فلسطینی تنظیموں میں اختلافات پیدا کرناچاہتا ہے ، مذاکرات کا راستہ بہت پہلے بند ہو چکا ،مزاحمت ہی واحد راستہ ہے ، نائب سربراہ
اسرائیل کاعرب ممالک سے معاہدے کا مقصد ایران کے قریب فوجی اڈے حاصل کرنا ہے،تاریخ اسرائیل سے معاہدے کرنیوالوںکو معاف نہیں کرے گی، اسماعیل ہنیہ
غزہ (نیوز ڈیسک) حماس نے مذاکرات کی امریکی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے مزاحمت و استقامت کو اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کا واحد راستہ قرار دیا ہے، حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری نے اعلان کیا کہ حماس کو سینچری ڈیل پر مذاکرات کی امریکی پیشکش کسی صورت منظور نہیں، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکا سینچری ڈیل کے ذریعے فلسطینی تنظیموں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ،امریکاکی زیرنگرانی مذاکرات کا راستہ بہت عرصہ پہلے ہی بند ہو چکا ہے اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے جو بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے وہ مزاحمت اور استقامت کی مرہون منت ہے انہوں نے کہاکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اس اقدام کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو نابود کرنے کا مشن شروع کر دیا، حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ تاریخ بعض عرب ممالک کو صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے پر ہرگر معاف نہیں کرے گی اور دیگر قومیں بھی انکی غداری کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گی، انہوں نے عرب امارات اور بحرین کے حکمرانوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سمجھوتے میں شکست کھا گئے ہیں ، اسرائیل کا اصل مقصد ایران کے قریب فوجی اڈے اور اقتصادی مراکز حاصل کرنا ہے، اسماعیل ہنیہ نے غزہ پر صہیونی حکومت کے ہر طرح کے حملے اور نئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں ہر طرح کی جنگ کے یقینا خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور دشمن کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔


































