
ولی ام المسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے امریکا ایران کی دفاعی اور علاقائی طاقت سے خوفزدہ ہے۔ ویڈیو لنک کے ذریعے امام علی ملٹری آفیسرز یونیورسٹی کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے مسلح افواج کے سپریم کمانڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران کی دفاعی، میزائلی اور علاقائی طاقت کے بارے میں امریکہ پر مسلط بدمعاشوں کا ٹولہ اس لیے شور شرابہ مچار رہا ہے کہ ایران نے یہ طاقت گہرے حساب کتاب اور دانشمندی کی بنیاد پر حاصل کی ہے، امریکیوں کی ہرزہ سرائی اور شور شرابہ ان کے خوف اور اس میدان میں ان کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہے۔ آپ نے فرمایا کہ امریکیوں کے شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کو خاطر میں لائے بغیر سائنٹفک کیلکولیشن سسٹم کو محفوظ رکھا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ اربوں ڈالر کے بجٹ خسارے اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے دسیوں لاکھ لوگوں کے پیش نظر امریکہ کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایرانی قوم ایمان کی طاقت اور قومی عزم وارادے کے ذریعے مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی اور پابندیوں کو ملکی معیشت پائیدار بنانے کے ایک موقع میں تبدیل کر دے گی جبکہ امریکہ کے جرائم پیشہ اور پست حمکرانوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔
آپ نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ ملک کی تمام مشکلات کا حل اندرون ملک ہی موجود ہے۔ آپ نے فرمایا کہ عوام کی اقتصادی اور معاشی مشکلات کو انتھک محنت، مضبوط انتظام اور جامع منصوبہ بندی نیز ملکی پیداوار پر توجہ مرکوز کر کے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
آپ نے ایرانی حکام کو نصیحت کی کہ بیرونی دنیا سے کوئی امید نہ رکھی جائے اور امریکی عوام پر مسلط بدمعاشوں کے شور شرابے پر بھی کوئی توجہ نہ دی جائے۔ آپ نے بدلتے ہوئے خطرات اور چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نئی صورتحال کے مقابلے کے لیے نئے منصوبوں کی ضرورت ہے، لہذا مسلح افواج کے تحقیقی اور تعلیمی اداروں کو اپنی ساری توجہ نئے خطرات کو سمجھنے اور ان کے تدارک کے لیے لازمی منصوبہ سازی پر مرکوز ہونا چاہیے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملکی سلامتی کے تحفظ کے علاوہ بھی مسلح افوج کے کاندھوں پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مسلح افواج کا ایک اہم ترین کام قوم کو خدمات فراہم کرنا ہے جن میں ڈیموں اور شاہراہوں کی تعمیر جسے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور صحت کے میدان میں خدمات فراہم کرنا شامل ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران کی مسلح افوج کورونا کے خلاف جنگ میں بھی پوری طرح شریک ہیں جبکہ معاشی امداد کے حوالے سے بھی بہترین خدمات انجام دے رہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ سلامتی کے تحفظ کے بغیر کسی بھی ملک کی اہم ترین اقدار کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا ہے۔


































