Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

شام میں بیرونی حمایت سے خانہ جنگی کے باعث سال 2019ء تک شام 442 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھا چکا ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ESCWA) اور اسکاٹلینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق شام کے اندر بیرونی حمایت کے ساتھ جاری رہنے والی شدید خانہ جنگی کے باعث سال 2011ء تا 2019ء تک ملک کو 442 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ کُرد ای مجلے رُوڈاو (Rudaw) کے مطابق یہ رقم گذشتہ 8 سالوں کی خانہ جنگی سے شام کو ہونے والا کل نقصان ظاہر نہیں کرتی بلکہ دوسرے ممالک میں موجود 56 لاکھ شامی پناہ گزین، شام کے اندر موجود 64 لاکھ بےگھر خاندان، غذا سے محروم 65 لاکھ شامی خاندان اور 1 کروڑ 1 لاکھ 70 ہزار وہ شامی خاندان، جو انسانی بنیادوں پر فوری مدد کے محتاج ہیں، ان اعداد و شمار کے علاوہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شام کے اندر موجود 30 لاکھ بچوں کو بھی سال 2017ء تا 2018ء پڑھائی کا موقع نہیں مل پایا۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں شامی معاشرے کے اندر خاندانی اکائی کے ختم ہو جانے اور انسانی ترقی کے مزید کم ہو جانے پر خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ شام خانہ جنگی کے آغاز سے قبل انسانی ترقی کے حوالے سے درمیانے درجے کا ایک ترقی پذیر ملک تھا جبکہ اس وقت وہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں بیرونی طاقتوں کی حمایت سے شام میں شروع کی جانے والی اس خانہ جنگی کے باعث شام کی اندرونی پیداوار سال 2010ء کی نسبت 54 فیصد رہ گئی ہے جس کے باعث ملک کو 334 ارب ڈالر سے زائد کا دوسرا نقصان بھی ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مندرجہ بالا نقصان کے علاوہ شام پر امریکہ و یورپ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے باعث بھی ملکی برآمدات میں بہت زیادہ کمی آئی ہے جس کے سبب قومی کرنسی "لیر” کی قیمت میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ و یورپ سمیت بڑی طاقتوں کے حمایت یافتہ دہشتگردوں نے مارچ 2011ء سے بشار الاسد کی شامی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت شروع کر رکھی ہے تاہم ایران، روس و عوامی مزاحمتی فورسز کی مدد سے شام نے ان دہشتگردوں کو اپنے اکثر علاقوں سے نکال باہر کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف شام کو امریکہ و یورپی ممالک کی جانب سے سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ یاد رہے کہ تیل سے مالا مال شام کا شمالی علاقہ تاحال امریکی فورسز کے کنٹرول میں باقی ہے جبکہ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نہ صرف شامی تیل لوٹنے میں مصروف ہیں بلکہ داعش سمیت 150 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کو مدد بھی فراہم کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular