Wed Oct 14, 2026

ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری جرمنی میں پولینڈ کے اسٹارلنک سیٹلائٹ اسٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کے الزام میں متعدد امریکی شہری گرفتار خلیجی ممالک میں کشیدگی، لاہور ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں منسوخ لاہور کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس

روزانہ کی خبریں

سلام بنتِ علیؑ سلام یا زینبؑ

تحریر: سویرا بتول

ثانی زہراؑ، شریکتہ الحسینؑ جنابِ زینب کبریٰ سلام علہیا کی شخصیت ایک ہمہ گیر شخصیت ہے۔ عالم و دانا، صاحبِ معرفت اور ایک نمایاں انسان کہ جب بھی کوئی اِن کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، ان کی علمی و معنوی عظمت اور معرفت کے آگے سر تسلیمِ خم کر دیتا ہے۔ ایک مسلم خاتون جس پہلو کو دنیا کے سامنے پیش کرسکتی ہے، یہی ہے یعنی اسلام کو اپنے وجود میں بسانا۔ ایمان کی برکت اور اپنے آپ کو خدا کے حوالے کر دینے سے ایک مسلمان عورت کا دل اس قدر گشادہ ہو جاتا ہے اور وہ اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ بڑے بڑے حادثات ا ±س کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ زینب کبریٰ سلام علیہا کی زندگی کا یہ پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ عاشورا جیسا عظیم واقعہ زینبؑ کو نہ جھکا سکا۔ یزید اور ابن ِ زیاد جیسے ظالم اور ستمگر افراد کی ظاہری حشمت و جلال زینب کو نہ للکار سکے۔ زینبؑ نے ہمیشہ اور ہر جگہ اپنے آپ کو ثابت قدم رکھا۔ ان کا وطن مدینہ ہو یا سخت امتحان و آزمائش کی آماجگاہ کربلا یا پھر یزید و ابنِ زیاد کا دربار، ہر جگہ زینبؑ ثابت قدم اور سر بلند رہی اور باقی سب ان کے آگے سرنگوں ہوگئے۔ یزید اور ابنِ زیاد جیسے مغرور اور ستمگر افراد اس دست بستہ اسیر کے سامنے ذلیل و خوار ہوگئے۔
خالقِ کائنات کی حمد و ثناءاور محمد و آلِ محمدؑ پر درود بھیجنے کے بعد ثانی زہراءسلام علہیا یوں اہلِ کوفہ سے مخاطب ہوئیں: "افسوس ہے تم پر، اے باشندگانِ کوفہ! کچھ جانتے ہو کہ تم نے رسولِ خداکے کس جگر کو پارہ پارہ کیا؟ اور اِن کا کونسا خون بہایا اور اِن کی کونسی ہتک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا؟ تم نے ایسے افعال شنعیہ کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں، زمین شگافتہ ہو جاﺅ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ تم نے قتلِ امامؑ کا جرمِ شنیع کیا ہے، جو پہنائی و وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔ اس مصیبت پر اگر آسمان سے خون برسا ہے تو تم تعجب کیوں کرتے ہو؟ یقیناً آخرت کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور رسوا کن ہوگا اور ا ±س وقت تمہاری کوئی امداد نہ کی جائے گی۔ تمہیں جو مہلت ملی ہے، اس سے خوش نہ ہو کیونکہ خداوند عالم بدلہ لینے میں جلدی نہیں کرتا کہ اسے انتقام کے فوت ہونے کا اندیشہ ہرگز نہیں۔ یقیناً تمہارا پرودگار اپنے نافرمان بندوں کی گھات میں ہے۔”
بشیر بن خزیم اسدی کہتا ہے کہ میں نے جنابِ سیدہ زینبؑ بنتِ علیؑ کو اس حالت میں دیکھا کہ بخدا! اِن سے زیادہ باحیاءمستور کو بولتے ہوئے نہیں دیکھا۔ گویا وہ زبانِ علیؑ ابنِ ابی طالب سے بول رہی ہیں اور جب انہوں نے فرمایا: لوگو! خاموش ہو جاو ¿ تو لوگوں کے سانس تک رک گئے اور اونٹوں کی گردنوں میں بندھی ہوئی گھنٹیوں کی آواز تک بند ہوگئی۔
اے بنتِ علی حاملِ کردار پیمبرؑ
خطبات ترے حاصلِ افکارِ پیمبرؑ
طائف کا تسلسل ہے ترا شام میں جانا
تو کارِ رسالت میں ہے ہم کارِ پیمبرؑ
یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ *”ک ±لّ ± یَومٍ عَاش ±ورَا و ک ±لّ ± اَرضٍ کَربَلاء”* تاریخ کی دائمی جنگ میں ہر دن عاشورا اور ہر زمین کربلا ہے، لہٰذا اگر وہ غیر حاضر نہیں ہونا چاہتا اور ہمیشہ رہنا چاہتا ہے تو اسے دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا:
خون کا۔۔۔۔۔ یا پیغام رسانی کا
حسینیت۔۔۔۔۔ کا یا زینبیت کا
*امام حسینؑ کی طرح مرنے کا یا حضرت زینبؑ کی طرح زندہ رہنے کا*
 *جو مرگئے، انہوں نے حسینی کردار ادا کیا*
*جو زندہ ہیں، انہیں زینبی کردار ادا کرنا چاہیئے*
*جو نہ حسینی کردار ادا کریں اور نہ زینبی، پس وہ یزیدی ہیں۔۔۔*
کربلا کے واقعہ کو ابدی حیات بخشنے میں کربلا کی خواتین کا بے نظیر کردار رہا ہے۔ کسی تحریک کا پیغام لوگوں تک پہنچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کربلا کی تحریک کا پیغام کربلا کی اسیر خواتین نے عوام تک پہنچایا ہے۔ جنابِ زینب سلام علہیا نے روزہ عاشورا میں ہی نہیں بلکہ امامؑ کی شہادت کے بعد مختلف مقامات میں اپنا کردار ادا کرکے یہ بات ثابت کی ہے کہ کسی بھی تحریک کو مستحکم بنانے میں خواتین کا کرادر نہایت اہم ہے۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ میدانِ عمل میں کارِ زینبی ادا کیا جائے۔
حدیثِ عِشق، دو باب اَست، کربلا و دَمِشق
یکے ح ±سینؑ رقم کرد، دیگرے زینبؑ!
وہ ہستی جو اپنی متین شخصیت اور پائیدار روح کے ذریعے تمام ناگوار حوادث کو سر کر جا? اور بھڑکتے ہو? شعلوں کو شجاعت و بہادری سے اپنے پیروں تلے روند ڈالے۔ لوگوں کو درس دے اور انہیں بیدار کرے، ساتھ ہی اپنے زمانے کے امامؑ کو ایک مہربان ماں کی طرح تسلی و تشفی دے اور ان نازک حالات اور طوفانِ حوادث میں یتیم بچوں کی حفاظت اور ان کی تسلی و تسکین کے لیے ایک محکم دیوار بن جائے، وہی شریکتہ لحسینؑ کہلائے جانے کا حق رکھتیں ہیں۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ جنابِ زینب سلام علہیا ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں اور اسلام عورت کو اسی طرف لے جانا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular