رفیق حریری کا قتل سیاسی وجوہات کے تحت ہوا،ایسے شواہد نہیں ملے کہ قتل میں حزب اللہ اور شام کے حکام کا ہاتھ ہو، حسن نصراللہ اور رفیق حریری میں اچھے روابط قائم تھے
عدالت نے حزب اللہ کے رکن سلیم عیاش کو دہشت گرد حملے کا ذمہ دار ٹھہرادیا ،سعد حریری نے اپنے والد کے قتل سے متعلق عالمی عدالت کے فیصلے کو قبول کر لیا
دی ہیگ (نیوز ڈیسک )لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے ٹربیونل نے حزب اللہ کو کلین چٹ دیدی ، نیدر لینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم عدالتی ٹربیونل نے فیصلہ دیا ہے کہ رفیق الحریری کے قتل میں حزب اللہ کی قیادت یا شام کی حکومت کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے، رفیق حریری کا قتل سیاسی وجوہات کے تحت ہوا اور ہمیں کوئی شواہد نہیں ملے کہ اس قتل میں حزب اللہ اور شام کے حکام کا ہاتھ ہو، سید حسن نصراللہ اور رفیق حریری کے مابین اچھے روابط قائم تھے ،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حزب اللہ کے دو اراکین 56 سالہ سلیم عیاش اور 46 سالہ حسین عنیسی کے موبائل فون کارروائی میں استعمال ہوئے ،عدالت نے سلیم عیاش کو دہشت گرد حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ، لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد حریری نے اپنے والد رفیق حریری کے قتل سے متعلق عالمی عدالت کے فیصلے کو قبول کر لیا ہے،لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری 14 فروری 2005 کو بیروت میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے، مذکورہ عدالتی کارروائی کے دوران 415 سماعتیں ہوئیں جب کہ 297 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ اس ٹرائل کا آغاز 2014 میں ہوا تھا
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- حریری کے قتل میں حزب اللہ کو کلین چٹ، عالمی…
حریری کے قتل میں حزب اللہ کو کلین چٹ، عالمی ٹربیونل کا فیصلہ
-
Ilyas - اگست 20, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 12
- 0 minute read


































