| تحریر: ابو فجر لاہوری جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیئر رہنماءاور ممتاز عالم دین مولانا شیرانی کی ایک ویڈیو منظرِعام پر آئی ہے، جس میں وہ پشتو میں خطاب کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے اس خطاب میں کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا ایک عالمی مسئلہ ہے اور وہ ذاتی طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں ہیں۔ مولانا شیرانی نے مزید کہا کہ انہیں عمران خان کی کئی پالیسیوں سے اتفاق ہے، عمران خان کی حکومت یہ پانچ سال پورے کرے گی اور اگلے پانچ سال بھی ان کے ہی ہوں گے۔ راقم کے ذاتی خیال میں مولانا شیرانی اسرائیل کے حامی نہیں، انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات صرف توجہ حاصل کرنے کیلئے کی ہوگی، کیونکہ جے یو آئی میں ان کیساتھ کئی بار دھوکہ ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے پارٹی پر اپنا قبضہ جمانے کیلئے مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد سمیت دیگر ا ±ن کے ہم خیال علماءکو انتہائی چالاکی سے کارنر کرکے پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا شیرانی مولانا فضل الرحمان سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ مولانا شیرانی نے واضح کہہ دیا ہے کہ اِن کا مولانا فضل الرحمان سے اختلاف ان کے جھوٹ بولنے پر ہے۔ مولانا شیرانی نے کہا کہ ہم جے یو آئی کا الگ دفتر بنائیں گے اور اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، اس جماعت کو چھوڑ کر الگ جماعت نہیں بنائیں گے، کیونکہ جے یو آئی کسی کی جاگیر نہیں۔ مولانا شیرانی نے کوئٹہ میں پرانے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ بلوچستان میں جے یو آئی کا الگ دفتر قائم کریں، جے یو آئی ان کی اپنی جماعت ہے تو اس لیے دوسری جماعت نہیں بنائیں گے۔ یہ اختلافات جے یو آئی میں 2013ءسے چل رہے ہیں۔ مولانا شیرانی نے 2013ءمیں جے یو آئی کی سربراہی لینے کیلئے مہم چلائی تھی، تب ان کا موقف تھا کہ قیادت کی دستار ان کے (مولانا شیرانی) سر باندھی جائے یا حافظ حسین احمد کو قائد جمعیت بنایا جائے۔ تب مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی کی مجلس شوریٰ کو اعتماد میں لیا اور کہا کہ ہمارا مشن منصوبے کے مطابق آخری مرحلے میں ہے، جس کی تکمیل کیلئے میرا (فضل الرحمان کا) قیادت کی نشست پر رہنا بہت ضروری ہے۔ یوں مولانا فضل الرحمان نے جماعت کے سرکردہ رہنماوں کی حمایت حاصل کرلی۔ جس میں یہ طے پایا کہ مولانا فضل الرحمان ہی جے یو آئی کے قائد رہیں گے۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے رو کر حلفاً کہا تھا کہ یہ میرا آخری الیکشن ہوگا، اس کے بعد وہ نہ صرف جماعت کی سربراہی بلکہ سیاست بھی چھوڑ دیں گے۔ اس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے اپنے مخالفین بالخصوص مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد کا پارٹی میں اثر و رسوخ ختم کرنے کیلئے ایک منظم مہم چلائی اور اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو اوپر لے آئے۔ اس مشن میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔ مولانا فضل الرحمان اپنے بیٹے کو اپنا جانشین اور جماعت کا سربراہ مقرر کرکے تاحیات خود کیلئے قائد کا عہدہ لینا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے سندھ اور پنجاب کی مکمل اور بلوچستان و کے پی کے کچھ رہنماوں کی حمایت بھی حاصل کرچکے ہیں۔ دینی مدارس کے زیادہ علماءکی حمایت مولانا شیرانی کیساتھ ہے، مگر انہیں بھی "وسیع تر قومی مفاد” کا کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ اس وقت جے یو آئی (ف) میں اختلافات کو بڑھایا جا رہا ہے۔ اس میں وہی قوتیں کار فرما ہیں، جنہوں نے ماضی میں تحریک جعفریہ کو توڑا، تحریک جعفریہ اور آئی ایس او میں اختلافات پیدا کرکے ایک مضبوط قوت کو تباہ کر دیا گیا، یوں تحریک جعفریہ کی تیزی سے حاصل ہوتی مقبولیت کا گراف ایک دم نیچے آگیا۔ جنہوں نے جے یو پی کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اس کی قوت زائل کر دی، اب وہی قوتیں جے یو آئی (ف) کو بھی "بے اختیار” بنانے کیلئے سرگرم ہوچکی ہیں۔ مولانا شیرانی کو مولانا فضل الرحمان کے مدمقابل کھڑا کر دیا گیا ہے اور قرائن بتا رہے ہیں کہ بہت جلد جے یو آئی (ف) سے بھی "جے یو آئی (ش)” نکل آئے گی۔ چند ماہ قبل مولانا فضل الرحمان نے اسی صورتحال کو پھانپتے ہوئے مجلس شوریٰ میں مطالبہ کیا تھا کہ جے یو آئی چونکہ اب صرف ہماری ہی ہے، اس لئے اس کیساتھ (ف) کا لفظ ہٹا دیا جائے، کیونکہ مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد جے یو آئی (س) مکمل غیر فعال ہوچکی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی اس تجویز سے مجلس شوریٰ نے اتفاق کیا تھا اور پارٹی کا نام جے یو آئی ہی لکھنے کا فیصلہ کیا تھا، مگر اب اچانک مولانا شیرانی کو فعال کر دیا گیا ہے۔ مولانا شیرانی بلوچستان اور کے پی میں اپنا اچھا خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اگر وہ الگ دھڑا بناتے ہیں تو جے یو آئی (ف) صرف پنجاب اور سندھ کے کچھ علاقوں تک محدود ہو جائے گی۔ جو قوتیں جے یو آئی (ف) کی قوت کو توڑنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، لگتا ہے کہ انہوں نے ہی مولانا شیرانی سے اسرائیل کے حوالے سے بھی بیان دلوایا ہے، تاکہ اس بیان کی آڑ میں عوام کو توجہ مولانا شیرانی کو حاصل ہو جائے اور پھر ایک موقع پر جب مولانا شیرانی عوامی سطح پر موضوع بحث بن جائیں، وہ اس بیان کی تردید کر دیں گے اور اسرائیل کی مخالفت میں بیان دے کر بری الذمہ ہو جائیں گے، تب تک مولانا فضل الرحمان کی جماعت میں گروہ بندی سے کمزوری داخل ہو جائے گی۔ مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا انجام یہی ہونا تھا، ماضی میں اور اب بھی مولانا فضل الرحمان کا بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کیخلاف رہا ہے۔ اب نواز شریف کیساتھ مل کر وہ اداروں کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔ ذرائع تو یہاں تک بھی کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے سخت بیانیئے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ پی ایم ایل این کو لاہور میں صدر بنانے کیلئے کوئی بندہ نہیں مل رہا۔ لاہور کے صدر پرویز ملک نے مزید کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب لاہور کے صدر کیلئے سابق سپیکر سردار ایاز صادق کو منتخب کیا گیا، مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد اب میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان، سیف الملوک کھوکھر اور رانا مشہود کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ پی ایم ایل این میں خواجہ سعد رفیق مریم نواز کے بہت قریب ہوچکے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ وہ رانا مشہود کو صدر بنوا دیں، اس کیلئے وہ بھرپور کوشش بھی کر رہے ہیں جبکہ پرویز ملک مجتبیٰ شجاع الرحمان کا نام دے رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان کو ہی صدر بنایا جائے۔ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ پی ایم ایل این میں بھی توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ شیخ رشید متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ "ن” میں سے "ش” نکلتے دیکھ رہے ہیں۔ یقیناً وہ مسلم لیگ (نواز) کے مقابلے میں مسلم لیگ (شہباز) بنتے دیکھ رہے تھے، جبکہ راقم کو اس میں اور بھی کئی دھڑے بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ نواز شریف نے حالیہ سیاسی بحران میں اسرائیل کیساتھ رابطے کئے ہیں اور مسلسل سعودی عرب اور اسرائیل کیساتھ رابطے میں ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کی مقتدر قوتیں کیسے برداشت کرسکتی ہیں کہ پی ایم ایل این کو مزید پنپنے کا موقع دیا جائے۔ اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے مصداق انتہائی چالاکی کیساتھ گیم میں شریک ہیں، جس سے سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی بچ جائے گی۔ جیالے درست کہتے ہیں کہ ایک زرداری، سب پہ بھاری۔ |


































