Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے خلاف تادیبی کارروائی

اسرائیل کی جیل میں قید 32 فلسطینوں کے خلاف جنہوں نے ماہر الأخرس کی حمایت میں بھوک ہڑتال شروع کی کیخلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آناتولی کی رپورٹ کے مطابق قدس کی غاصب اور جابر صہیونی حکومت نے کہا ہے کہ عوفر جیل میں قید جہاد اسلامی، حماس، فتح اور دیگر فلسطینی گروہوں سے تعلق رکھنے والے گروہوں کے 32 قیدیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی اور انہیں قید تنہائی میں رکھا جائے گا۔
مذکورہ قیدیوں نے فلسطینی اسیر ماہر الأخرس کی حمایت میں پیر 12 اکتوبر سے بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ صہیونی جیل کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کا یہ اقدام جیل قوانین کے خلاف ہے۔
واضح رہے کہ 49 سالہ ماہر الأخرس کو 27 جولائی کے روز گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے اپنی گرفتاری کے خلاف گزشتہ 78 روز سے بھوک ہڑتال شروع کی جس کے باعث ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت تقریبا 4 ہزار 800 فلسطینی قیدی موجود ہیں جن میں 41 خواتین اور 140 بچے شامل ہیں جبکہ تقریبا 340 افراد ایسے ہیں کہ جن کی قانونی عمر بھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔
غاصب صہیونی حکومت کی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو شدید اور ناقابل بیان ایذا رسانیوں کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular