
گھمنڈی ٹرمپ شکست ماننے اور صدارت چھوڑنے کو تیارنہیں، اہلیہ اور داماد کا مشورہ بھی رد، الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی، میں جیتا ہوں ،ٹرمپ کی ہٹ دھرمی
الیکشن کیخلاف ٹرمپ کی عدالتی جنگ، کوئی ثبوت موجود نہیں، ثابت ہوگیا امریکی جمہوریت کا کوئی معیار نہیں،روسی رہنما، امریکی الیکشن ترقی پذیر ممالک جیسے ہیں، چینی میڈیا
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا کے صدارتی الیکشن دنیا کے لئے مذاق اور شرمناک بن گئے، جس پر دنیا بھی حیران ہے اور امریکی نظام کو زوال کا شکار قرار دے رہی ہے، گھمنڈی ڈونلڈ ٹرمپ شکست کے باوجود اسے ماننے کو تیار اور صدارت چھوڑنے کو تیار نہیں، ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیراڈ کوشنر اور اہلیہ میلانیا نے بھی انتخابی نتائج تسلیم کا مشورہ لیکن وہ کسی کی بات ماننے پر تیارنہیں، ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں شکست نہیں ہوئی بلکہ وہ جیتے ہیں انہوں نے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگادیا، ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست مشی گن، ریاست وسکونسن اور پنسلوانیا بے قاعدگی کا الزام لگایا تھا، لیکن انہوں نے کسی قسم کے ثبوت نہیں دئے، تاریخ میں پہلی بار بڑی بے ضابطگیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، الیکشن میں ملی بھگت سے دھاندلی کی گئی ہے، یہ پہلی بار ہواہے کہ ملک کاصدر خود دھاندلی کا الزام لگارہا ہے،3 نومبر کو الیکشن کے بعد اب تک انتخابی نتائج نہیں آسکے اور چار ریاستوں میں اب تک گنتی جاری ہے، یورپ میں ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ بظاہر امریکی نظام حکومت زوال پذیر ہے،روسی پارلیمان کے اسپیکر نے بیان میں کہا اس الیکشن سے یہ ثابت ہوگیا کہ امریکی جمہوریت کا کوئی معیار نہیں، چین کے سرکاری میڈیا نے تبصرہ کرتے ہوئے امریکی الیکشن کو ترقی پذیر مملک کے انتخابات سے تشبیہ دی،ادھر امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے حالیہ انتخابات کے دوران مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔، جس پر الیکشن سے متعلق اعلیٰ پراسیکیوٹرز مستعفی ہوگئے۔


































