Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

مصطفیٰ ادیب لبنان کے نئے وزیراعظم منتخب

مصطفیٰ ادیب لبنان کے نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ قانون اور سیاسیات میں ڈاکٹریٹ کرنے والے لبنان کے نومنتخب وزیراعظم مصطفیٰ ادیب اس سے قبل جرمنی میں لبنان کے سفیر رہ چکے ہیں اور صدر مائیکل عون کی میزبانی میں ہونے والی مشاورت میں لبنان کی تمام مرکزی جماعتوں نے ان کی حمایت یے۔
مصطفیٰ ادیب کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ملک کے لیے بہت محدود مواقع ہے اور جو مشن میں نے قبول کیا ہے اس پر تمام سیاسی فورسز کا اتفاق ہے’۔ مصطفیٰ ادیب نے باصلاحیت ٹیم کے انتخاب کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ ‘مذاکرات اور وعدوں کا وقت نہیں ہے بلکہ سب کے تعاون سے کام کرنے کا وقت ہے’۔
وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انہوں نے دھماکے سے تباہ ہونے والے بیروت کے علاقے کا دورہ کیا جس میں 190 سے زائد افراد ہلاک اور 6 ہزار زخمی ہوگئے تھے۔
مصطفیٰ ادیب کا نام ایک روز قبل ہی اس وقت سامنے آیا تھا جب لبنان کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ سعد حریری سمیت سابق وزرائے اعظم نے انہیں نامزد کیا۔
رپورٹس کے مطابق سعد حریری کے علاوہ حزب اللہ بھی مصطفیٰ ادیب کی نامزدگی میں شامل ہے، اس لیے انہیں حکمرانی کے دوران سابق وزرائے اعظم اور طاقت ور جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔
یاد رہے کہ بیروت میں 4 اگست کو تباہ کن دھماکے کے بعد ملک میں حکمران طبقے کے خلاف شدید احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مزید پڑھیے

Most Popular