
عرب ممالک ایران سے مکالمہ کریں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے، سابق قطری وزیراعظم کی ٹوئٹ ،سعودیہ ایران میں ثالثی کیلئے تیار ہیں، قطری وزیرخارجہ
ہمیشہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، سعودیہ اپنا رویہ بدلے، یمن جنگ ختم کرے اور علاقائی مذاکرات کو باہمی مفاہمت کاسبب سمجھے ، ایرانی وزارت خارجہ
دوحہ (نیوز ڈیسک) کویت اور قطر نے ایران اور سعودیہ کے درمیان مصالحت کی کوششیں تیز کردیں، المیادین ٹی وی چینل کے مطابق قطر اور کویت کے دونوں ممالک سے رابطوں میں مثبت اشارے ملے ہیں، رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کو یمن کے دلدل سے نکلنے کے لئے مذاکرات کا سہارا چاہئے اور ایران بھی خلیج فارس کے عرب ممالک کے ساتھ جنگ بندی چاہتا ہے کہ وہ ایٹمی معاملے میں امریکی دباو کے سامنے کھڑا ہونے کی ٹھوس تیاری کر سکے ، قطر کے سابق وزیر اعظم اور وزیر خارجہ حمد بن جاسم کی اس ٹوئٹ کے بعد کہ خلیج فارس کے ساحلی عرب ممالک کو تاخیر اور وقت گزر جانے سے پہلے ایران سے بات چیت کرنی چاہئے، ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں ، ٹوئٹ کے کچھ دن بعد قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمن نے کہا کہ ان کا ملک، ایران اور خلیج فارس کے عرب ممالک اور ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے،رپورٹ کے مطابق شروع میں ایران اور سعودی عرب نے ان تجاویزکو نظر انداز کیا لیکن اب لگتا ہے کہ فضا بدل چکی ہے اور یہ تبدیلی امریکا میں حکومت کی تبدیلی کے بعد زیادہ واضح طور پر نظر آرہی ہے،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے کہا ہے کہ ایران غیرملکی مداخلت کے بغیر خطے میں تعاون اور مکالمے کیلئے ہمیشہ سے آمادہ ہے ،انہوں نے بعض پڑوسی ممالک کو ٹرمپ کے دورحکومت میں نامناسب اقدامات پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک ٹرمپ کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے تھے کہ اسے جب چاہیں گے استعمال کریں گے ، انہوں نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا رویہ بدلے، یمن کی جنگ ختم کرے اور تسلیم کرے کہ علاقائی مذاکرات خطے کے ممالک کے مابین باہمی مفاہمت کا باعث بن سکتے ہیں،ایران کے بازو کھلے ہیں وہ ان کا خیرمقدم کرے گا۔


































