
عرب لیگ کی سربراہی قبول نہیں کریں گے تاہم لیگ کے اندرموجود اپنی کرسی خالی نہیں چھوڑیں گے، امریکا دباو ¿ کے سامنے ڈٹے رہیں گے،فلسطینی وزیرخارجہ
محمود عباس کی جگہ الفتح کے سابق رہنما محمد دہلان کو فلسطینی صدر بنایا جاسکتا ہے، امریکی سفیر، مصر سمیت پانچ ممالک نے فلسطین کو گیس معاہدے سے نکال دیا
رام اللہ (نیوز ڈیسک) فلسطین نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کی مذمت نہ کرنے پر عرب لیگ کی صدارت چھوڑ دی،رام اللہ میں نیوز کانفرنس کے دوران فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے عرب لیگ کی صدارت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ فلسطین صرف موجودہ اجلاس کی صدارت کرے گا، فلسطین کو اگلے 6 ماہ تک عرب لیگ کے اجلاسوں کی صدارت کرنا تھی، ریاض المالکی نے کہا ہے کہ فلسطینی حکومت نے تاحال اس لیگ کے کردار و مقام کو مستحکم کرنے کے لئے تگ و دو کی ہے تاہم اب وہ عرب لیگ کی سربراہی قبول نہیں کرے گاتاہم لیگ کے اندرموجود اپنی کرسی خالی نہیں چھوڑے گی، ہم اپنے موقف میں مضبوطی لانے اورامریکی دباﺅ کے آگے نہ جھکنے کیلئے تمام ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں، ادھر اسرائیل کے ہمراہ مصر، قبرص، یونان، اٹلی اور اردن نے قاہرہ میں نیا معاہدہ کرکے فلسطین کو "مشرقی بحیرہ روم گیس فورم سے بیدخل کردیا، دوسری جانب امریکا نے محمود عباس کو صدارت سے ہٹانے کا منصوبہ بنالیا، اسرائیل میں امریکا کے سفیر ڈیوڈ فرائڈ مین کا کہنا ہے کہ امریکا فلسطینی صدر محمود عباس کو ہٹانے پر غور کر رہا ہے، محمود عباس کی جگہ الفتح کے سابق رہنما محمد دہلان کو فلسطین کا صدر بنا یا جا سکتا ہے، محمود عباس کے حریف محمد دہلان ان دنوں عرب امارات میں مقیم ہیں۔


































