
7 مسلم ممالک کے تارکین وطن کے امریکا میں داخلے پر پابندی ،پیرس معاہدے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے انخلا، ٹرمپ کے احکامات منسوخ کردئے جائینگے
بائیڈن ایٹمی معاہدے میں بعض تبدیلیوں کے خواہاں ،ا یران معاہدے کی مکمل پاسداری کرے تو امریکا ایک بار پھر معاہدے میں شامل ہو جائیگا،جو بائیڈن
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے صدارت سنھبالتے ہی سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بہت سے آرڈیننس منسوخ کرنے اور ملک کو واپس براک اوباما دور میں لے جانے کا اعلان کردیا لیکن ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے میں فوری واپسی اور امریکی سفارتخانے کی دوبارہ تل ابیب منتقلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا،امریکی میڈیا کے مطابق جوبائیڈن صدارتی حکمنامہ جاری کرکے ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن میں واپسی کا اعلان کریں گے،وہ 7 مسلم ممالک کے تارکین وطن کے امریکا میں داخلے پر پابندی ختم کردیں گے ، ان کی حکومتی ترجیحات ٹرمپ حکومت کی ترجیحات سے بالکل مختلف ہیں لیکن ایران کے معاملے میں وہ ٹرمپ کی پالیسیو ں کو مکمل تبدیل کرنے کا اراداہ نہیں رکھتے ہیں ، جو بائیڈن نے انتخابات میں کامیابی سے پہلے کہا تھا کہ اگر ایران جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کرے تو امریکا ایک بار پھر معاہدے میں شامل ہو جائے گا،بائیڈن کے سابق مشیر آموس ہوچیسٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے میں واپسی بائیڈن کی ترجیحات میں شامل ہے اور یہ صدارت سنبھالنے کے پہلے ماہ میں بھی ہوسکتا ہے لیکن بائیڈن معاہدے میں بعض تبدیلیاں چاہتے ہیں اور اس کیلئے ایران سے مذاکرات کی پیشکش کریں گے لیکن ایران پہلے ہی ایٹمی معاہدے پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کرچکا ہے۔


































