پاکستان میں فرقہ واریت کی حالیہ لہر کے پیچھے اسلام دشمن قوتیں کارفرما ہیں (ملی یکجہتی کونسل)
تمام مکاتب فکر31 اکابر علما ءکے 22 نکات، قرارداد مقاصد، آئین کی اسلامی دفعات، ملی یکجہتی کونسل کے ضابطہ اخلاق اور پیغام پاکستان پر متحد ہیں
اسلام اورملک دشمنوں کی سازشوں کیخلاف سیسہ پلائی دیوار بنیں گے، اسرائیل کو تسلیم کرنیوالے مسلم ممالک فیصلے کو واپس لیں،اجلاس میں اتفاق
لاہور(نیوز ڈیسک) ملی یکجہتی کونسل نے اہل بیت اطہارؑ، صحابہ کرامؓ اور امہات المومنین ؓکی توہین کرنیوالوں سے اظہار برات کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کیخلاف دشمنوں کی حالیہ سازشوں کا مقابلہ اتحاد و اتفاق سے کیا جا سکتا ہے ، ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا مرکزی مشاورتی اجلاس متحدہ جمعیت اہلحدیث کی میزبانی اور صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی زیرصدارت میںلاہور میں ہوا، اجلاس کی نظامت کونسل کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کی،اجلاس کے شرکا نے اتفاق کیا کہ تمام مکاتب فکر 31 اکابر علما کے 22 نکات، قرارداد مقاصد، آئین کی اسلامی دفعات، ملی یکجہتی کونسل کے ضابطہ اخلاق اور پیغام پاکستان پر متحد ہیں، ہم آنحضرت کے اہل بیت اطہارؑ، صحابہ کرام ؓاور امہات المومنین ؓکے احترام پر متفق و متحد ہیں اور ان ہستیوں کی توہین کرنیوالوں سے ہم اظہار برات کرتے ہیں ، اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں کیخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنیں گے اور اسلامی ریاست کو کمزور نہیں ہونے دیں گے اور اس میں اسلامی تعلیمات کی بالادستی کیلئے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے،شرکا نے کہا کہ پاکستان میں فرقہ واریت کی موجودہ لہر کے پیچھے اسلام دشمن قوتیں کارفرما ہیں، امریکا، اسرائیل اور بھارت جو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ، ہم یقین رکھتے ہیں کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے، اسرائیل ایک ناجائز اور غاصب صہیونی ریاست ہے، جو استعماری قوتوں نے اپنے مقاصد کیلئے قائم کر رکھی ہے، اس کے خاتمے کے سوا خطے میں امن کے قیام کی کوئی سبیل نہیں، جو اسلامی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے فیصلے کو واپس لیں، تاکہ عالم اسلام متحد ہو کر فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی کے لیے اقدام کرسکے ، اجلاس میں کونسل کی 15 رکن جماعتوں اور تین اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی


































