
اسرائیل کو تسلیم نہیں کرینگے، فلسطینیوں کا حق محفوظ ہے اور اسے کوئی پامال نہیں کر سکتا،عمار الحکیم،اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائیں گے،لبنان
سوڈان کی عبوری کونسل کا امریکی دبا و ¿ کے باوجود اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ، فیصلہ انتخابات کے بعد آنے والی حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے،عبوری کونسل
بغداد/بیروت (نیوز ڈیسک) عراق، لبنان اورسوڈان نے اسرائیل سے تعلقات کیلئے امریکی دباو ¿ مسترد کردیا اور واضح طور پر کہا ہے کہ اسرائیل کو کسی طور تسلیم نہیں کیا جائے گا، عراقیون الائنس کے سربراہ سید عمارالحکیم نے علاقے کے بعض عرب ممالک کے اسرائیل سے معاہدوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کسی بھی طور اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، فلسطینیوں کا حق محفوظ ہے اور اسے کوئی پامال نہیں کر سکتا، ادھر لبنان کے وزیر خارجہ شربل وہبہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا، لبنان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا اور ہم صہیونی حکومت کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کے بھی مخالف ہیں ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے ساتھ سرحدوں کا تعین ہمارے لئے ضروری ہے اور ہم اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی صہیونی دشمن کے قبضے میں نہیں رہنے دیں گے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ہماری سمندری حدود کے انتہائی قریب آکر تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کا کام انجام دے ، تیل و گیس کے ذخائر ہماری ملکیت ہیں اور اس پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں،ادھرسوڈان کی عبوری کونسل نے امریکی دبا و ¿ کے باوجود اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،عبوری کونسل کا موقف ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ انتخابات کے بعد آنے والی حکومت پر چھوڑ دینا چاہئے لیکن ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ امریکا میں تین نومبر کو صدارتی الیکشن سے پہلے سوڈان اسرائیل کو تسلیم کرلے ،امریکا نے سوڈان کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کو تسلیم نہ کیا تو اس کانام دہشت گرد ممالک کی فہرست سے نہیں نکالا جائے گا، عبوری کونسل کا اس حوالے سے دو بار اجلاس ہوا تاہم اسرائیل کو تسلیم کرنے پراتفاق نہیں ہوسکا، سوڈان کی مجمع فقہ اسلامی نے اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے روابط کی برقراری کو حرام قرار دیا ہے۔


































