
مچھ میں 11 کان کنوں کے قتل عام کے خلاف پاکستان بھر میں دھرنے اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملتان میں مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیراہتمام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور بعد ازاں نواں شہر چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، نواں شہر پہنچ کر شرکاء نے دھرنا دیا۔ دھرنے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ اقتدار نقوی، آئی ایس او ملتان کے ڈویژنل صدر ثقلین ظفر اور دیگر علماء نے کی۔
علامہ اقتدار نقوی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان میں وطن کے بیٹوں کے گلے نہیں کاٹے گئے بلکہ ملک کے امن و امان کا گلا کاٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔
علامہ قاضی نادر علوی نے کہا کہ مذہبی منافرت پھیلانے میں ناکامی اور سیاسی بحران پیدا کرنے میں بدترین شکست کے بعد دہشت گردانہ کارروائیوں سے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سانحہ مچھ کے خلاف شیعہ علما کونسل تحصیل و ضلع ملتان کے زیراہتمام جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ تا علمدار چوک سورج میانی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جس سے علامہ سید کاشف ظہور نقوی نے مرکزی خطاب کیا۔
کراچی میں انچولی امام بارگاہ سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں علمائے کرام اور مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
ادھر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرہ آئی ڈی سی کے زیراہتمام کیا گیا جس میں ایم ڈبلیو ایم اور سوشل ایکٹوسٹ نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
سینیٹ میں بھی سانحہ مچھ کی مذمت کی گئی اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہزارہ برادری میتوں کے ساتھ سراپا احتجاج ہے۔ قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے۔ ہم اس کی تہہ تک پہنچیں گے، مجرم بچ نہیں پائیں گے۔ بیرون ملک عناصر دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان میں 11 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جس کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔
وفاق المدارس شیعہ پاکستان، ایم ڈبلیو ایم، شیعہ علماء کونسل اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے سانحہ کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔


































