انبیاؑ، اہلبیتؑ، صحابہ ؓ، خلفائے راشدین، ازواجِ مطہرات کی توہین اور تکفیر پر کارروائی ہوگی، قرآن و سنت کی روشنی میں دیاگیا فتویٰ ہی معتبر ہوگا،مشترکہ اعلامیہ
بعض رہنماو ¿ں کے جذباتی بیانات سے نفرتیں بڑھتی ہیں، ایک قوم بننے کیلئے تفرقے سے بچنا ہوگا،کسی کے کفر کا فیصلہ عوام نہیں کرسکتے، صدر عارف علوی
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کوئی مقرر، خطیب یا ذاکر انبیاؑ، اہلِ بیتؑ، صحابہ کرامؓ، خلفائے راشدین، ازواجِ مطہراتؓ کی توہین اور تکفیر نہیں کرے گا، توہین کرنے والے کیخلاف کارروائی کی جائے گی، قرآن و سنت کی روشنی میں دیا جانے والا فتویٰ ہی معتبر ہوگا، کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر قرار نہ دیا جائے،کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے، ایوان صدر میں اتحاد امت کانفرنس کے بعد مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی اتفاق رائے سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر دہشتگردی، انتہا پسندی، فرقہ وارانہ تشدد، قتل و غارت خلافِ اسلام ہے۔ تمام مکاتب فکر، مذاہب کی قیادت ،مذہب کے نام پر دہشتگردی سے اعلان لاتعلقی کرتی ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہنماو ¿ں کے جذباتی بیانات سے نفرتیں بڑھتی ہیں، ایک قوم بننے کے لیے تفرقے سے بچنا ہوگا،جہالت پر مبنی اختلافات تفرقے کا باعث بنتے ہیں، ماضی میں ایران اور عراق کو لڑایا گیا۔ االلہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں خود بتا دیا کفر کسے کہتے ہیں، اس کا فیصلہ میں اور آپ کر بھی نہیں سکتے اور کہہ بھی نہیں سکتے
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- بعض رہنماوں کے جذباتی بیانات سے نفرتیں بڑھتی ہیں،کسی بھی…
بعض رہنماوں کے جذباتی بیانات سے نفرتیں بڑھتی ہیں،کسی بھی اسلامی فرقہ کو کافر قرار دینا درست نہیں( اتحاد امت کانفرنس)
-
Ilyas - ستمبر 24, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 14
- 0 minute read


































