
اسٹریٹیجک اہداف کے حصول کی خاطر باہمی اختلافات کو دور کرنا، قومی آشتی کو یقینی بنانا اور عوامی مشارکت میں اضافہ کرنا ضروری ہے ، فلسطینی رہنما
سازشیں انتہائی خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی ہیں اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی ، تمام قانونی راستے اپنائینگے
رام اللہ /بیروت (نیوز ڈیسک) فلسطینی تنظیموں نے باہمی اختلافات کے خاتمے اور دوریاں کم کرنے کی غرض سے مشترکہ کمیٹی کے قیام پر اتفاق کر لیا،ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بیک وقت رام اللہ اور بیروت میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں فلسطینی تنظیموں کے سربراہوں نے حصہ لیا، اجلاس میں مسئلہ فلسطین کو نابود کرنے اور فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کیا گیا، فلسطینی رہنماو ¿ں کا کہنا تھا کہ بیت المقدس اور سرزمین فلسطین کے مسیحی اور اسلامی مقدسات پر حملے یا ان کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اسٹریٹیجک اہداف کے حصول کی خاطر باہمی اختلافات کو دور کرنا، قومی آشتی کو یقینی بنانا اور عوامی مشارکت میں اضافہ کرنا ضروری ہے کیونکہ صرف اسی صورت میں اسرائیل کی توسیع پسندی کا مقابلہ کیا جا سکتا اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آسکتا ہے، اجلاس میں غاصب صہیونی حکومت کے مقابلے کے طریقہ کار اور صہیونی حکومت کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی عوامل کو فعال کرنے کا بھی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں شریک فلسطینی رہنماو ¿ں نے فیصلہ کیا کہ عالمی قوانین اور ضابطوں کے تحت مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور اس کیلئے تمام قانونی راستے اپنائے جائیں گے ،حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، سینچری ڈیل، غرب اردن پر قبضے، عرب حکومتوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کی امریکی اور صہیونی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سازشیں انتہائی خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی ہیں اور ان کا مقصد فلسطینی کاز کے بنیادی ستونوں کو نشانہ بنا کر مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لیے نابود کرنا ہے،جہاد اسلامی فلسطین کے رہنما زیاد النخالہ نے بعض عرب ملکوں کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے ساتھ غداری کے ذریعے آگے بڑھنے والی صہیونی سازشوں کا ٹھوس اور بھرپور مقابلہ کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کی مذمت کی۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو فلسطینیوں کی پشت میں زہر آلود خنجر گھوپنے کے مترادف قرار دیا۔


































