اسرائیلی وفد کی مناما آمد، امریکی سرپرستی میں باقاعدہ معاہدے پر دستخط، معاہدے کی دستاویزات میں فلسطین مسئلے کاکوئی حوالہ شامل نہیں،سفارتخانے قائم کرنے کافیصلہ
دونوں ملک ہر شعبے میں معنی خیز تعاون کریں گے، بحرینی
وزیرخارجہ، معاہدے کیخلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ، اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کی بحالی کی شدید مذمت
مناما (نیوز ڈیسک)اسرائیل اور بحرین کے درمیان باقاعدہ طور پر سفارتی تعلقات قائم ہوگئے،عوام نے صیہونی حکومت سے تعلقات کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا، امریکا کی زیر سرپرستی معاہدے پر فریقین نے دارالحکومت مناما میں دستخط کیے، اس طرح بحرین مشرق وسطیٰ کا چوتھا ملک بن گیا ہے جس نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے، بحرین سے قبل متحدہ عرب امارات، اردن اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں،معاہدے کے بعد دونوں ملک ایک دوسرے کی سرزمین پر سفارت خانے قائم کریں گے،معاہدے کی دستاویزات میں فلسطین مسئلے کاکوئی حوالہ شامل نہیں بحرین کے وزیر خارجہ عبدالعاطف بن راشد الزیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں دونوں ملک ہر شعبے میں معنی خیز تعاون کریں گے،انہوں نے کھوکھلے الفاظ کے ساتھ فلسطین کے مسئلے کا دو ریاستی حل تجویز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، معاہدے کیخلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے، اور مختلف شہروں میں مظاہرے کرکے معاہدے کو مسترد کردیا، مظاہرین نے ہاتھ سے لکھے ہوئے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر، اے قاتلوں دفع ہوجاو ¿، بحرین میں تمہیں امان نہیں دیں گے، گو آل خلیفہ گو ، جیسے نعرے درج تھے،مظاہرین نے امریکہ مردہ بادہ، اسرائیل مردہ باد اور شاہی حکومت مردہ باد کے نعرے لگا کر اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کی بحالی کی شدید مذمت کی۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- اسرائیل بحرین معاہدہ، فلسطین مکمل نظرانداز، عوام کا احتجاج
اسرائیل بحرین معاہدہ، فلسطین مکمل نظرانداز، عوام کا احتجاج
-
Ilyas - اکتوبر 22, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 14
- 0 minute read


































